Urdu book · اسفارِ ہند

پٹنہ کا سفر

Urdu book, p. 543

By Maulana Wahiduddin Khan

چالیس سالہ تجربہ میں ملک تباہی کے آخری کنارے پہنچ چکا ہے۔ اب نئی دہلی کی حکومت اپنی نئی اقتصادی پالیسی کے تحت برلائزیشن کا دور لا رہی ہے۔ مگر حالات اتنے زیادہ خراب ہو چکے ہیں کہ بظاہر مزید چالیس سال تک بھی اس کی تلافی ممکن نظر نہیں آتی۔ جہاز میں میرے قریب کی سیٹ پر ادھیڑ عمر کا ایک شخص تھا۔ بظاہر وہ نان ریذیڈنٹ انڈین معلوم ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ غالباً دو بیگ تھے۔ کسی معاملہ پر وہ ائیر ہاسٹس سے بحث کر رہا تھا۔ غالباً ائیر ہاسٹس کا اصرار تھا کہ وہ اپنا سامان لاکر (اوپر کے خانہ) میں رکھے۔ اور وہ انھیں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا۔ آخر وہ اس سیٹ سے اٹھ کر کسی دوسری سیٹ پر چلا گیا۔ جاتے ہوئے بڑبڑاہٹ کے انداز میں کہہ رہا تھا____ ہندوستان میں رہنا کتنا مشکل ہے: It is so difficult to live in India. مودی لفت کی مذکورہ فلائٹ کا وقت صبح پانچ بج کر ٥٥ منٹ تھا۔ گھڑی کی سوئی نے جیسے ہی ٥٥ - ٥ کا وقت بتایا فوراً جہاز میں حرکت شروع ہو گئی۔ وہ اپنے مقررہ وقت پر اودے پور پہنچ گیا۔ جہاز میں داخل ہو کر ہم لوگ بیٹھے تو ائیر ہاسٹس نے اعلان کیا : مودی لفت کی یہ فلائٹ جے پور ہوتی ہوئی اودے پور جارہی ہے، دہلی سے جے پور کی دوری چالیس منٹ میں پوری کی جائے گی۔ میں نے سوچا کہ میری قریبی منزل جے پور ہے، مگر میری آخری منزل اودے پور ہے تاہم اور آگے بڑھ کر سوچا جائے تو اودے پور بھی میری قریبی منزل ہے، وہ میری آخری منزل نہیں۔ اصل منزل جو اس کے بعد آنے والی ہے وہ موت اور آخرت ہے ۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے کہ دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم راہ چلتے ہوئے ایک مسافر ہو۔ مودی لفت کا فلائٹ میگزین (Take Off) دیکھا۔ اس میں ایک مضمون پرواز (Flight) کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ فلارنس کے قریب ۱۴۵۲ میں پیدا ہونے والا لیونارڈو (Leonardo) پہلا شخص ہے جس نے ہوائی پرواز کے لئے ایک علمی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page