Urdu book · اسفارِ ہند

پٹنہ کا سفر

Urdu book, p. 544

By Maulana Wahiduddin Khan

بنیاد (scientific basis) فراہم کی۔ اس نے گہرائی کے ساتھ چڑیوں کا مطالعہ کیا کہ وہ کیسے اڑتی ہیں۔ اس طرح دس سالہ مطالعہ کے بعد اس نے ہوائی پرواز کے ابتدائی اصول وضع کئے ۔ "چڑیا" شاید اس لئے تھی کہ انسان کو ہوائی جہاز کی صنعت کی طرف متوجہ کرے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو اس دنیا میں اشارہ کے انداز میں رکھ دیا ہے تاکہ آدمی ان کا مطالعہ کر کے تمدن کی تعمیر کرے۔ اسی طرح آخرت میں پیش آنے والی حقیقتوں کے پیشگی اشارے بھی اس دنیا میں رکھ دئے گئے ہیں۔ یہاں بھی انسان سے مطلوب ہے کہ ان اشاروں کا مطالعہ کر کے وہ آخرت کی حقیقتوں پر اپنے یقین کو مستحکم کرے۔ ہندوستان ٹائمز (۳۱ مارچ ۱۹۹۵) کے پہلے صفحہ پر ایک نمایاں تصویر تھی ۔ اس میں وہ فوٹو چھپا گیا تھا جو امریکہ کی فرسٹ لیڈی (Hillary Clinton) اور ان کی بیٹی (Chelsea) نے آگرہ میں تاج محل کے سامنے بیٹھ کر کھنچوایا تھا۔ صدر امریکہ کی اہلیہ نے تاج محل کو دیکھنے کے بعد بار بار کہا کہ یہاں سے جانے کا جی نہیں چاہتا : I don’t feel like leaving the place. مغل حکمرانوں نے اس ملک میں عمارتیں کشش کے نمونے تو قائم کئے مگر اسلام کی کشش کے اسباب فراہم کرنے میں وہ نا کام رہے۔ انھوں نے اگر ملک میں اسلام کا تاج محل بنایا ہوتا تو شاید یہاں کی سیاحت کرنے والا یہ کہتا کہ ــــــــ اسلام کے سوا کوئی اور دین اب مجھے پسند نہیں آتا۔ جاز میں دوسرے اخباروں کے ساتھ اکنامک ٹائمز (The Economic Times) کا شمارہ ۳۱ مارچ ۱۹۹۵ بھی تھا۔ اس کے صفحہ اول پر ایک لیبل علیحدہ سے چپکا ہوا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ یہ فلاں سفری کمپنی (Tours and Travels) کی اسپانسر کی ہوئی کاپی ہے (sponsored copy)۔ اور یہ کہ وہ آپ کی اپنی کاپی ہے : This is your copy. مسافروں کے ساتھ اس فیاضی کا سبب کیا تھا۔ اخبار کا ہر صفحہ خاموش زبان میں اس کو بتا رہا تھا۔ کیوں کہ وہ زیادہ تر اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ اس فیاضی کا مقصد مسافر کو "اخبار"

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page