پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 546
By Maulana Wahiduddin Khan
اور انگریزی کی تعلیم کو ناجائز بلکہ حرام قرار دے کر مسلم قوم کے لئے علوم جدیدہ کی تحصیل کے دروازے بند کردئے ۔ اور اس فیصلہ سے برطانوی حکومت کے انتقامی اور عیارانہ وشاطرانہ عزائم کے پر لگادئے ۔ انگریزوں سے نفرت حتی بجانب تھی۔ لیکن انگریزی جو علوم جدیدہ کے حصول کا ذریعہ تھی اور جس سے سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرکے مسلم قوم پستی سے باہر سکتی تھی اور ہر اور ان وطن کے شانہ بشانہ چل سکتی تھی ، اس کے دروازے مسلم قوم پر خود مسلم علمار نے بند کئے دئے (صفحہ ۸۹)۔ میں اضافہ کروں گا کہ انگریزوں سے نفرت کرنے میں بھی ہمارے علماء یقینی طور پر حق بجانب نہ تھے۔ کیوں کہ یہ انگریز ہمارے لئے مدعو کی حیثیت رکھتے تھے ۔ اور مدعو سے داعی کا متنفر ہونا ہرگز جائز نہیں۔ جہاز جے پور سے روانہ ہو کر اودے پور پہنچا۔ یہ ایک چھوٹا ایئر پورٹ ہے۔ یہاں صرف چند جہاز اترتے اور روانہ ہوتے ہیں۔ اودے پور راجستھان کا ایک تاریخی شہر ہے۔ ۱۵۶۸ء میں چتوڑ کے بعد وہ مہاراجہ اودے پور کی راجدھانی بنا۔ اس کے بعد راجہ نے یہاں دو بڑے محل تعمیر کرائے۔ شاہ جہاں نے ۱۶۲۸ میں مغل تخت پر قبضہ کرنے سے پہلے جب اپنے باپ جہاں گیر کے خلاف بغاوت کی تھی تو اس وقت اس نے اودے پور کے ایک محل میں پناہ لی تھی۔ اودے پور کی ریاست سیسودیا راجپوتوں نے آٹھویں صدی عیسوی میں قائم کی تھی۔ ۱۸۱۸ء میں اس پر انگریزوں نے قبضہ کیا۔ ۱۹۳۸ میں اودے پور کو راجستھان میں شامل کر دیا گیا۔ آریہ سماج (۱۸۷۵) کے بانی دیانند سرسوتی نے اودے پور ہی میں اپنی مشہور کتاب سیتار تھ پر کاش لکھی تھی (15/495) اودے پور ائیر پورٹ پر مسٹر رادھے شیام چیچان اور پر بھو دیال بر لا موجود تھے۔ ان کے ساتھ بذریعہ کار بھیل واڑہ کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں حسب معمول میں ان لوگوں سے معلوماتی انداز کی گفتگو کرتا رہا۔ مسٹر رادھے شیام چیچان ایک صنعت کار ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مرکزی حکومت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader