پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 547
By Maulana Wahiduddin Khan
کی لبرلائزیشن کی پالیسی سے کیا آپ لوگ متفق ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لبرلائزیشن اصولی طور پر تو درست ہے۔ مگر حکومت کو اسی کے ساتھ ملکی صنعتوں کو انفرا اسٹرکچر(بجلی ، پانی، سڑک وغیرہ) بھی فراہم کرنا چاہئے۔ ابھی تو یہ حال ہے کہ باہر کی کمپنیوں کو ہر قسم کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ مثلاً ان کے سارے کام ایک ”ونڈو“ پر ہوجاتے ہیں۔ مگر ہم کو دسیوں ونڈو پر لائن لگانا پڑتا ہے۔ یہ تو کمپٹیشن نہیں۔ یہ تو ایک کو پیچھے کرکے دوسرے کو آگے بڑھنے کا موقع دینا ہے۔ ”راجستھان“ کا عام تصور یہ ہے کہ وہ ریگستانی علاقہ ہے۔ راجستھان کی علامتی تصویروں میں اکثر اونٹ اور صحرا دکھایا جاتا ہے۔ مگر مجھے ایرپورٹ سے بھিল واڑہ تک کہیں صحرا اور ریگستان نظر نہیں آیا۔ سڑک کے دونوں طرف درخت اور سبزہ اور کھیت کے مناظر تھے۔ میں نے ساتھیوں سے اس کا ذکر کیا تو مسٹر برلانے کہا کہ میں ایک بار ٹرین سے دہلی سے بھیل واڑہ آرہا تھا۔ راستہ میں ایک خاتون کے ساتھ ان کا بچہ تھا۔ سفر کرتے ہوئے جب ہماری ٹرین راجستھان میں داخل ہوئی تو لڑکے نے اپنی ممی سے کہا: ممی، راجستھان تو آگیا۔ مگر وہ ریگستان کہاں ہے۔ مسٹر برلانے کہا کہ اصل یہ ہے کہ راجستھان کے صرف ایک علاقہ میں ریگستان ہے۔ مگر ایسا چوں کہ دوسری ریاستوں میں نہیں ہے اس لئے راجستھان کی پہچان ریگستان بن گیا۔ اس غلطی کا تعلق صرف راجستھان سے نہیں۔ اکثر معاملات میں لوگ اس قسم کی غلطی کرتے ہیں، وہ جزئی پہلو کو کل کی پہچان بنالیتے ہیں۔ راجستھان کا قدیم نام راجپوتانہ تھا۔ برٹش دور میں یہاں اٹھارہ ریاستیں تھیں، جہاں راجپوت راجہ راج کرتے تھے۔ اس لئے اس کا یہ نام پڑا۔ ۱۹۴۷ میں آزادی کے بعد ریاستیں ختم ہوگئیں اور اس کا مجموعی نام راجستھان رکھ دیا گیا۔ اس علاقہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہاں کھدائی میں مٹی کے کچھ برتن ملے ہیں۔ کاربن ڈیٹینگ سے معلوم ہوا ہے کہ ان کی تاریخ ۲۰۰ ۲ قبل مسیح تک جاتی ہے۔ سولھویں صدی میں یہاں طاقت ور راجپوت سلطنت قائم تھی۔ لیکن رانا سنگرام سنگھ (سانگا) اور بابہ کی لڑائی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader