Urdu book · اسفارِ ہند

پٹنہ کا سفر

Urdu book, p. 550

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ چند منٹ کی تاخیر سے پہنچے۔ مگر منتظمین نے کلکڑ صاحب کا انتظار کیے بغیر ٹھیک وقت پر اپنا پروگرام شروع کر دیا۔ ہر پروگرام ٹھیک مقررہ وقت پر شروع اور ختم ہوتا رہا۔ یکم اپریل کو مجھے بھیل واڑہ سے بذریعہ کار چل کر ساڑھے چار بجے اور دے پور پہنچنا تھا۔ اور دے پور میں دوپہر کا کھانا تھا۔ اور یہاں کا مشہور قلعہ دیکھنا تھا۔ پھر ایئر پورٹ پہنچنا تھا جس کا وقت ساڑھے چار بجے مقرر تھا۔ سارے پروگراموں کو پور کرنے کے بعد جب ہماری کار ایئر پورٹ پہنچ کر کھڑی ہوئی تو میں نے دیکھا کہ گھڑی کی ایک سوئی چار پر تھی اور دوسری سوئی ۳۰ پر۔ مسٹر نریندر لودھا (بھارت و کاس پریشد کے مقامی صدر) کا ٹیلیفون دہلی میں آیا تھا کہ ۳۱ مارچ کو جمعہ کا دن ہو گا۔ اس دن آپ لوگوں کی خاص نماز ہوتی ہے۔ پھر اس کے لئے ہمیں کیا کرنا ہوگا۔ میں نے کہا کہ آپ کسی مسلمان سے کہہ دیں کہ وہ مجھ کو مسجد میں لے جائے۔ وہاں میں نماز پڑھ لوں گا۔ چنانچہ جمعہ سے پہلے سرکٹ ہاؤس میں کئی مسلمان آگئے۔ ان کے ساتھ جا کر یہاں کی اسٹیشن والی مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ نماز پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ دہلی کی مسجد میں جس طرح میں اپنے آپ کو دوسروں سے مانوس پاتا ہوں۔ اسی طرح یہاں بھی اور ساری دنیا میں باہمی انسیت کا احساس ہوتا ہے۔ اس تجربہ کے بعد خیال آیا کہ اسلامی اتحاد کی بنیاد یہی روحانی یگانہ ت ہے۔ آپ دنیا کے جس حصہ میں جائیں، آپ محسوس کرتے ہیں کہ دوسرے مسلمانوں کا عقیدہ ، ان کی سوچ ، ان کا اخلاقی اصول ، ان کی عبادت کا طریقہ ، وہی ہے جو میرا ہے۔ یہی اشتراک عالمی اسلامی اتحاد کی بنیاد ہے۔ مگر کچھ انتہا پسند لوگوں نے بے بنیاد طور پر یہ نظریہ بنایا کہ سیاسی ادارہ اسلامی اتحاد کی بنیاد ہے۔ یعنی ساری دنیا کا ایک خلیفہ ہو اور تمام لوگ اس کے سیاسی عصا کے تحت منظم ہوں۔ یہ ایک بے اصل نظریہ ہے۔ قرآن وسنت میں اس کے لئے کوئی بنیاد موجود نہیں۔ ۳۱ مارچ کو دوپہر کا کھانا سرکٹ ہاؤس میں کھایا۔ لمبی میز پر کئی معزز لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page