Urdu book · اسفارِ ہند

پٹنہ کا سفر

Urdu book, p. 549

By Maulana Wahiduddin Khan

حکومت کے ذمہ دار اپنے سفروں کے دوران وہاں وقتی قیام کرتے ہیں۔ انہیں کو سرکٹ ہاؤس کہا جاتا ہے۔ بھیل واڑہ نے صرف دس سال کے اندر نمایاں ترقی کی ہے۔ بھیل واڑہ نے بھونڈی کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حالاں کہ بھونڈی کو مقابلۃً بہت سے ایڈوانٹیج حاصل تھے " سوٹینگ " میں وہ سارے ملک سے آگے نکل گیا ہے۔ مسٹر گووند نارائن راٹھی جو خود بھی بزنس میں ہیں، انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ "یہاں کے لوگوں میں رسک لینے کی استعداد (capacity) ہے مزید یہ کہ یہاں کے لوگ دنگے سے بہت دور رہتے ہیں۔ یہاں کوئی جھگڑا نہیں ہوتا۔ اور بزنس کے لئے امن بہت ضروری ہے۔ بھیل واڑہ کی آبادی تقریباً لاکھ ہے۔ اس میں ۱۰ فیصد سے کچھ زیادہ مسلمان شامل ہیں۔ یہاں دس مسجدیں ہیں اور اتنی ہی تعداد میں دینی مدرسے ہیں۔ دستور ہند نے مسلمانوں کو برابر کے شہری کا درجہ دیا ہے۔ مگر تعلیم اور اقتصادیات میں پیچھے ہو جانے کی وجہ سے عملاً ہر جگہ وہ " دوسرے درجہ " کی کمیونٹی نظر آتے ہیں۔ اس صورتحال کی ذمہ داری تمام تر صرف مسلمانوں کے نا اہل رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے۔ بھیل واڑہ کا یہ سفر بھارت وکاس پریشد کی دعوت پر ہوا۔ بھارت وکاس پریشد کا قیام ۱۹۸۵ میں ہوا تھا ۔ اس کے آر انڈیا یا پریذیڈنٹ سپریم کورٹ کے سابق جج شری آراپیچ کھنا ہیں۔ راجستھان میں اس کی چالیس شاخیں ہیں۔ بھارت وکاس پریشد ایک غیر سیاسی ادارہ ہے۔ یہ لوگ تعمیری کاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مثلاً اسکول، اسپتال، رفاہ عامہ ، خدمت خلق ، وغیرہ ۔ انھوں نے سوامی و یویکانند کے اس قول کو اپنا مانٹو بنایا ہے کہ راشٹر نرمان ۔ دیکتی نرمان۔ یعنی فرد کی تعمیر سے ملک کی تعمیر ہوتی ہے۔ ان کے پروگرام کے چار اجزا یہ ہیں: سیوا ، سنسکار، سہیوگ، سمپرک ۔ ایک بات کا میں نے خود تجربہ کیا۔ اور وہ وقت کی پابندی ہے۔ ان کے تمام پروگرام وقت کی پوری پابندی کے ساتھ انجام دئے گئے ۔ ۳۱ مارچ کی شام کے پروگرام میں بھیل واڑہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page