پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 552
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کھانا شروع کرتے ہوئے بلند آواز سے کہا: بسم اللہ الرحمان الرحیم۔ میرے قریب بیٹھے ہوئے ایک تعلیم یافتہ ہندو نے اس کا مطلب جاننا چاہا۔ میں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے میں شروع کرتا ہوں خدا کے نام سے جو نہایت رحیم اور مہربان ہے۔ اسلام میں بتایا گیا ہے کہ آدمی جب بھی کوئی کام شروع کرے تو وہ ان الفاظ کو اپنی زبان سے دہرائے۔ یہ بندہ کی بندگی کا اظہار اور خدا کی خدائی کا اعتراف ہے۔ ۳۱ مارچ کو ۳ بجے سہ پہر میں سوچنا کیندر (انفارمیشن سنٹر) میں نوجوانوں کی ایک میٹنگ ہوئی ۔ تمہیدی تقریروں کے بعد مجھے موقع دیا گیا۔ میں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دو باتیں اگر ہمارے اندر آجائیں تو ملک کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا۔ آجکل یہ حال ہے کہ لوگ دیش سے صرف لینا جانتے ہیں، وہ دیش کو دینا نہیں جانتے۔ یہ مزاج نہ صرف ملک کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ طویل مدت کے اعتبار سے خود افراد کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ ذاتی مفاد کے مقابلہ میں دیش کے مفاد کو اونچارکھیں۔ دوسری چیز یہ کہ اس ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہند ومسلم جھگڑا ہے۔ یہ جھگڑا اتمام تر غلط فہمی پر مبنی ہے ۔ ایر جنسی کے زمانہ میں جب ہندوؤں اور مسلمانوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور وہاں دونوں ایک ساتھ رہے تو ہر ایک نے محسوس کیا کہ ایک دوسرے کے بارہ میں ان کے خدشے بے بنیاد تھے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اگر کسی طرح صرف اختلاط بڑھا جائے تو تمام غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔ اس میٹنگ کے بعد کافی سوالات آئے جن کا میں نے جواب دیا۔ خاص بات یہ تھی کہ سوالات کے لئے نہایت منظم طریقہ اختیار کیا گیا۔ لوگوں نے کاغذ پر لکھ کر اپنے سوالات صدر صاحب کے پاس بھیج دیجئے ۔ یہ سوالات ہندی میں لکھے ہوئے تھے۔ صدر صاحب نے ایک ایک سوال کو باری باری پڑھا اور میں نے ہر ایک کا جواب دیا۔ کسی بھی جواب کے بعد دوبارہ سوال نہیں کیا گیا۔ سوالات اور ان کے جوابات یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔ سوال: آپ دیش میں آنے والے سمے میں کس پر کار کی راج نیتک شاشن و یوسٹھا کی سمبھا و نا دیکھتے ہیں۔ وشیش کر ورتھمان سند ربھ میں (پرکاش چندرنکل )

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader