پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 553
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب : بظاہر حالات امید کی طرف جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ۱۹۹۲ کے آخر میں میں نے بھا جپا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ لوگ کانگریس کے سیکولر زم کو سوڈ و سیکولر زم کہتے ہیں۔ اور خود ہند تو کا نام لیتے ہیں۔ مگر سوڈو سیکولر زم کا بدل ہند تو نہیں ہے بلکہ ٹرو سیکولر زم ہے۔ اب آپ دیکھئے کہ خود بھا جپا کے لیڈر (آڈوانی اور باجی پی) ٹھیک اسی قسم کے الفاظ بول رہے ہیں۔ یہ واضح طور پر ایک صحت مند تبدیلی کی علامت ہے۔ سوال : بھارتیہ سنسکرتی ایوم اسلامک سنسکرتی میں کیا فرق ہے۔ دونوں سنسکرتیوں میں ہم کیا سمائیں دیں۔ کیا دونوں سنسکرتیاں راشٹر کو سنگھٹ کرنے ایوم نو زمان میں سہماگی ہو سکتی ہیں (جگیر سنگھ چودھری) جواب : ہماری موجودہ سنسکرتی ایک نئی سنسکرتی ہے۔ اس کا قدیم بھارتیہ سنسکرتی سے بہت کم تعلق ہے۔ یہ دراصل ہندستانی تہذیب ، اسلامی تہذیب اور مغربی تہذیب کے امتزاج سے بنی ہے۔ اور تہذیب یا سنسکرتی ہمیشہ اسی طرح امتزاج ہی سے بنتی ہے۔ یہی مشترکہ تہذیب ہندستان کی تہذیب ہے اور وہی ہماری ترقی کا ذریعہ ہے۔ سوال : شتری رام مندر ایوم بابری مسجد کا مدامندر ایوم مسجد تک سمیٹ نہیں رہ کو اب یہ ہندوؤں کی ایوم مسلمانوں پرتی شود کا کارن بن گیا ہے۔ اس کمی کو اب کیسے دور کیا جا سکتا ہے۔ ایوم اس سمسیا کا کیا سمائک سمادھان ہو سکتا ہے۔ کر پیا پر کاش ڈالیں ۔ (دامودر اگروال) جواب : میں سمجھتا ہوں کہ وقتی طور پر ضرور ایسا ہوا تھا کہ یہ اشو دونوں فرقوں کے لئے پریشیج اشو بن گیا تھا۔ مگر حالات کے زور پر اب وہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اب دونوں فرقوں کو محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ ایک نان اشو تھا جس کو ہم نے جند بات میں آکر اشو بنالیا۔ سوال : ہندو شید را شٹر و اد شبد ہے۔ پھر بھی راشٹر کے سبھی درگ کے لوگ اس کو جاتی کا دھرم سمجھ رہے ہیں۔ اس کا کیا کارن ہے۔ آپ کا اس سمبندھ میں کیا چاپر ہے (ریکھا رام چندرانی) جواب : یہ بات کہ ہندو شبد ایک را شٹر و اد شبد ہے ، یہ صرف کچھ ہندوؤں کا کہنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader