پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 561
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ۱۲۲ فٹ اونچا ایک مینار ہے۔ اس کا اصل نام وجے استمبھ ہے۔ یعنی منارہ فتح۔ یہاں آرکیالوجی کی طرف سے جو بورڈ لگایا گیا ہے اس پر لکھا ہوا ہے کہ رانا کمبا کو ۱۴۴۰ء میں سلطان محمود خلجی (مالوہ) پر فتح حاصل ہوئی تھی۔ اس فتح کی یادگار کے طور پر رانانے ۱۴۶۸ء - ۱۲۵۸ء میں یہ استمبھ بنوایا۔ اس کی تعمیر پر جو پتھر لگائے گئے ہیں ان پر ہندو دیوی دیوتاؤں کی تصویریں تراش کر بنائی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ہتھیاروں اور موسیقی کے سامانوں کی تصویریں بھی تراشی گئی ہیں۔ اسی کے ساتھ استمبھ کے اندر عربی رسم الخط میں اللہ بھی لکھا ہوا ہے۔ استمبھ کے باہر آرکیالوجی کا جو بورڈ لگا ہوا ہے اس پر اس کی بابت یہ الفاظ درج ہیں کہ استمبھ کی تیسری اور آٹھویں منزل پر عربی میں لکھا ہوا اللفظ اللہ بتاتا ہے کہ راجہ دوسرے مذہبوں کا بھی کتنا احترام کرتا تھا: The word “Allah” inscribed in Arabic in 3rd and 8th stories shows the regard of other faiths also. مہارانا پرتاپ سنگھ (میواڑ) اور شہنشاہ اکبر کے درمیان زبردست لڑائی ہوئی۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ پرتاپ سنگھ کا سپہ سالار ایک مسلمان حکیم خان سورمی تھا۔ اور اکبر کا سپہ سالار ایک ہندو راجہ مان سنگھ تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مغل دور میں جو لڑائیاں ہوئیں وہ صرف سیاسی بالادستی کی لڑائیاں تھیں۔ ان کا کچھ بھی تعلق مذہب سے نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو راجہ کی فوج میں مسلمان اور مسلم بادشاہ کی فوج میں ہندو ہوتے تھے۔ حتیٰ کہ مذکورہ مثال کے مطابق ، ہندو راجہ نے مسلم بادشاہ پر اپنی فتح کا مینار تعمیر کیا۔ تو اس کی دیواروں پر اس نے ہندو مذہبی علامتوں کے ساتھ عربی رسم الخط میں اللہ کا نام بھی درج کیا اودے پور کا قلعہ دیکھنے کے بعد ہم لوگ ایئر پورٹ کے لئے روانہ ہوئے۔ ہم اپنے پروگرام کے مطابق، ٹھیک وقت پر ایئر پورٹ پہنچ گئے۔ مگر وہاں معلوم ہوا کہ جہاز لمیٹ ہے ۔ میری واپسی انڈین ایئر لائنز کے جہاز سے تھی۔ لیکن انڈین ایئر لائنز میں تاخیر ایک عام چیز ہے۔ اور وقت پر روانگی صرف ایک استثنا ہے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے باصرار کہا کہ آپ لوگ چلے جائیں۔ مگر وہ لوگ آخر وقت تک ایئر پورٹ پر ٹھہرے رہے۔ جہاز کا مقرر وقت ہونے پرچنچے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader