پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 562
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ مگر جہاز عملاً ساڑھے سات بجے روانہ ہوا۔ اودے پور سے انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ ۴۴۷ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ راستہ میں انڈین ایئر لائنز کے دو فلائٹ میگزین (سو اگت) دیکھیے۔ مارچ ۱۹۹۵ء کے شمارہ میں ایک مضمون آگرہ کی کیتھولک سیمٹری (مسیحی قبرستان) کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ آگرہ کے اس قبرستان میں جن انگریزوں کی قبریں ہیں ان میں سے ایک انگریز سوداگر ملڈن ہال (Johan Mildenhall) ہے۔ وہ ۱۶۰۳ء میں مغل دربار میں آیا۔ اس کے پاس الزبتھ اول کا ایک تعارفی خط تھا۔ اس میں مغل حکمران سے ہندوستان میں تجارت کی اجازت مانگی گئی تھی۔ اکبر نے کسی قدر تردّد کے ساتھ تجارت کی اجازت دے دی۔ بعد کو سرٹامس رو (Sir Thomas Roe) جہاں گیر کے دربار میں آیا اس نے جہانگیر سے بات کرکے اس سے مزید رعایتیں حاصل کرلیں۔ اس طرح ہندوستان میں انگریزوں کے نفوذ کے لئے دروازہ کھل گیا : Thus heralding the rise of the British in India (p. 42) انڈین ایئر لائنز کا فلائٹ میگزین سوانگت (اپریل ۱۹۹۵) دیکھا۔ اس میں تقریباً انگریزی اور نصف ہندی مضامین ہوتے ہیں۔ ہندی شعبہ میں ایک مضمون کا عنوان تھا: رہے گا بانس تو بجے گی بانسری۔ عنوان سے بظاہر یہ خیال ہو رہا تھا کہ یہ مضمون "بانسری" کے بارہ میں ہوگا۔ لیکن پڑھنے کے بعد اندازہ ہو کہ بانسری کا ذکر اس میں محض ضمنی طور پر ہے۔ اصل یہ مضمون بانس کے بارہ میں تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ بانس ایک بہت مفید درخت ہے اور بانسری کے علاوہ اس کے بہت سے استعمال ہیں۔ مختلف ملکوں میں بانس کے استعمالات بتائے گئے تھے۔ میں نے سوچا کہ محض عنوان یا کوئی ظاہری پہلو دیکھ کر کسی چیز کے بارہ میں رائے قائم نہیں کرنا چاہئے۔ بلکہ اس کو پوری طرح دیکھنا اور سمجھنا چاہئے۔ عین ممکن ہے کہ جس کو دیکھ کر بظاہر جو رائے بنی تھی، وہ کل سے واقفیت کے بعد بدل جائے۔ انگریزی روزنامہ ہندو کا شمارہ یکم اپریل ۱۹۹۵ دیکھا۔ اس میں ایک خبر یہ تھی کہ گجرات کی حکومت نے ریاست کے تمام پرائمری اسکولوں، سکینڈری اسکولوں اور ہائر سکینڈری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader