پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 563
By Maulana Wahiduddin Khan
اسکولوں کے لئے لازم قرار دیدیا ہے کہ تمام طلبہ روزانہ اجتماعی طور پر بندے ماترم کا ترانہ گائیں ۔ ایجوکیشن منسٹر مسٹر نلین بھٹ نے اسٹیٹ اسمبلی میں اس کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وندے ماترم بچوں کے اندر حب الوطنی ، قومیت کا جذبہ پیدا کرنے میں مددگار ہوگا اور پوری قوم کو متحد کرنے کا ذریعہ بنے گا : Vande Mataram would help the children in developing patriotism and nationalism and would be a vehicle to unite the entire nation. (p. 9) میں نے ایک صاحب سے کہا کہ ترانوں سے کبھی کوئی قوم نہیں بنتی۔ ۱۹۴۷ سے پہلے پوری پاکستانی قوم نے یہ ترانہ گایا تھا اور اب بھی گاتی ہے کہ ۔ پاکستان کا مطلب کیا ، لاالہ الااللہ ۔ لیکن مزاج اور کردار کی تعمیر کے اعتبار سے اس کا ایک پرسنٹ فائدہ بھی نہیں ہوا۔ یہی انجام بندے ماترم کا بھی ہوگا ۔ اسکول کے بچے تو درکنار ، اگر انڈیا کے تمام لوگ ہر روز صبح کو یہ ترانہ گائیں تب بھی اس کا کوئی حقیقی عملی نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں۔ اس طرح کے ترانے صرف بڑاؤں کو خوش کرتے ہیں ، وہ بچوں کے تعمیر کردار میں کچھ بھی مددگار نہیں ہوتے ۔ یکم اپریل 1995 کی شام کو 9 بجے دہلی واپس آگیا۔ ایک غلط فہمی کی وجہ سے یہاں ائیر پورٹ پر لوگ دیر میں پہنچے۔ مجھ کو تقریباً پندرہ منٹ کھڑے ہو کر ان کا انتظار کرنا پڑا۔ یہ پندرہ منٹ اتنا لمبا معلوم ہوا کہ میری زبان سے نکلا کہ خدایا ، اس دنیا میں پندرہ منٹ کا انتظار بھی برداشت نہیں ہوتا ۔ قیامت میں انسان کا حال کیا ہو گا جب اس کو لامعلوم مدت تک انتظار کی حالت میں کھڑا رہنا پڑے گا ، جب کہ وہاں کا ہر منٹ دنیا کے منٹ سے بے حساب حد تک زیادہ سخت ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader