Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

شَانتی یا ترا دسمبر ۱۹۹۳ء کے نصف آخر میں ایک سفر پیش آیا۔ یہ ’’شَانتی یا ترا‘‘ کا سفر تھا۔ دہلی۔ بمبئی۔ پونہ۔ ناگپور۔ بمبئی۔ دہلی کے درمیان بہت سی جگہوں پر جانے کا اتفاق ہوا۔ اس سلسلہ میں مجموعی طور پر تقریباً چھ ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑا۔ یہ میری زندگی میں اپنی نوعیت کا پہلا سفر تھا۔ ذیل میں اس کی مختصر رو داد درج کی جاتی ہے۔ یہ سفر ایک ٹیم کی صورت میں تھا۔ میرے علاوہ اس میں جو لوگ شریک تھے ان میں سے کچھ کے نام یہ ہیں ـــــ اچاریہ منی سوشیل کمار، سوامی چید آنند، شانتنی لال موسٹھا، انا صاحب ہزارے، جسٹس چندر شیکھر دھرمادھکاری۔ اچاریہ منی سوشیل کمار ہندوستان کی ایک غیر نزاعی شخصیت ہیں۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی امن کے پرچار میں لگا رکھی ہے۔ ایودھیا کے حادثہ نے انھیں بے چین کر دیا۔ نئی دہلی میں ان کے آشرم میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی ہر مذہب کے رہنماؤں کی میٹنگیں ہوئیں۔ آخر کار طے ہوا کہ امن کے فروغ کے لئے اس سلسلہ میں کچھ عملی قدم اٹھائے جائیں۔ اس سلسلہ کا آغاز ۱۴ دسمبر ۱۹۹۳ء کو ٹی وی پرو گرام سے ہوا۔ پہلے ڈیفنس کالونی نئی دہلی کے آشرم میں مختلف مذہبوں کے لوگ جمع ہوئے۔ ٹی وی کی ٹیم یہیں آگئی تھی۔ اس نے ہر ایک سے ایک ہی سوال کیا ’’موجودہ حالات میں آپ دیش کے لوگوں کو کیا سندیش دینا چاہیں گے۔‘‘ ہر مذہب کے نمائندہ نے کہا کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت یہ ہے کہ امن قائم ہو اور نفرت کا خاتمہ کیا جائے۔ میں نے بھی یہی بات اپنے انداز سے کہی۔ میں نے مزید کہا کہ جب کچھ لوگ مل کر رہیں، تو خواہ وہ ایک گھر میں ہوں یا ایک ملک میں، بہر حال ایسے موقع آتے ہیں کہ ایک کو دوسرے سے تکلیف پہنچتی ہے۔ اس لئے عملی طور پر امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب کہ اختلافی بات پیش آنے کے باوجود امن و محبت کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ آج ہی ٹی وی پر دوسرا پرو گرام پینل کی صورت میں تھا۔ اس میں اچاریہ سوشیل کمار،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page