ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 72
By Maulana Wahiduddin Khan
ناگپور سے واپسی کے بعد وہاں سے کچھ خط اور ٹیلی فون موصول ہوئے ۔ ان میں سے ایک جناب جلیل ساز صاحب کا خط مورخہ ۲۱ نومبر ۱۹۹۲ء ہے ۔ انھوں نے اپنے خط میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ " ناگپور میں آپ کی تقریروں کا کافی چرچا اور اثر ہے " یہ اللہ کا فضل ہے کہ الرسالہ کی آواز جہاں بھی پہنچ رہی ہے ، وہ لوگوں کے لیے فکر انگیزی کا سبب بن رہی ہے ۔ لوگ از سر نو سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ مسلمانوں کے پڑھے لکھے طبقہ میں اس وقت جو آواز سب سے زیادہ موضوع بحث بنی ہوئی ہے وہ الرسالہ کی آواز ہے ۔ الرسالہ مشن نے پہلا مرحلہ طے کر لیا ہے ، ایم حملہ لوگوں کے درمیان اس کا چرچا ہونے لگا۔ غالباً وہ وقت زیادہ دور نہیں جب کہ یہ مشن اپنے اگلے مرحلہ میں پہنچ جائے ۔ یعنی لوگوں کے ذہنوں پر اسی فکر کا غلبہ ہو جائے اور دوسرے تمام افکار پس منظر میں چلے جائیں ۔ (وما ذلك على الله بعزيز )

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader