شانتی یاترا
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
علاقوں میں فرقہ وارانہ فساد شروع ہو گیا۔ ۱۵ دسمبر ۱۹۹۲ کی صبح کو ساڑھے چھ بجے گھر سے نکل کر ایئرپورٹ کے لئے روانہ ہوا۔ فضا میں ہر طرف اجالا پھیل چکا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ آج رات کو میں نے ایک اردو پرچہ میں ایک مضمون پڑھا تھا ۔ اس کا عنوان تھا ـــ " ہر طرف اندھیرا " اس میں دکھایا گیا تھا کہ آج ہر جگہ کے مسلمان ظلم و زیادتی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ملت کے افق پر ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا ہے۔ میں نے سوچا کہ اس زمین پر خدا مسلسل یہ کر رہا ہے کہ وہ ہر ۲۴ گھنٹے کے اندر شام کو صبح میں تبدیل کرتا ہے۔ وہ ہر روز رات کی تاریکی کو ختم کر کے دن کا اجالا پھیلا رہا ہے۔ اس طرح خدا دکھا رہا ہے کہ اس دنیا میں مایوسی کے لئے کوئی جگہ نہیں۔ یہاں ہر اندھیرے کے بعد اجالا ہے۔ ایسی حالت میں قرآن کے حاملین" اندھیرا ہی اندھیرا " کی فریاد کیوں کر رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ فکری اعتبار سے وہ اس حالت کو پہنچ گئے ہوں جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : ان قومی اتخذوا هذا القرآن مهجور (الفرقان ۳۰) ہمارے امن مشن کو دلی سے پونہ پہنچنا تھا۔ مگر رات کو معلوم ہوا کہ پونہ کی فلائٹ کینسل ہو گئی ہے۔ فوری طور پر رات ہی کو جہاز تبدیل کیا گیا اور ریسٹے کیا گیا کہ دہلی سے بمبئی جائیں اور وہاں سے پونہ پہنچیں۔ چنانچہ ایئر پورٹ پر خلاف معمول سناٹا تھا۔ بڑی تعداد میں انڈین ایئر لائنز کے جہاز گراؤنڈ پر کھڑے ہوئے نظر آئے۔ انڈین ایئر لائنز کے پائلٹوں نے اسٹرائک کر رکھی ہے۔ ایئر پورٹ پر میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ اسٹرائک کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ان پائلٹ لوگوں کو فی گھنٹہ بارہ سو روپیہ ملتا ہے۔ وہ سات ہزار روپیہ روز کماتے ہیں۔ اس کے علاوہ کھانا رہنا سب فری ہے۔ تب بھی وہ خوش نہیں۔ انھیں مہینہ میں اس سے بھی زیادہ چاہیے ۔ انڈین ایئر لائنز کے پائلٹوں نے جب اسٹرائک کر دی تو سول اووی ایشن منسٹر نے فوراً متبادل انتظام کی تلاش شروع کر دی۔ پر مسرت تعجب کے ساتھ انھیں معلوم ہوا کہ روس کے ۵۰۰ ہوائی جہاز از بکستان میں خالی پڑے ہوئے ہیں۔ انھوں نے روسی حکومت سے رابطہ قائم کیا اور آسان شرطوں پر چھ ہوائی جہاز فوری طور پر منگوا لئے۔ اس طرح ٹرنک روٹ (دہلی ، بمبئی ، کلکتہ ، مدراس ) کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader