Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 76

By Maulana Wahiduddin Khan

پروازیں بحال کرلیں۔ انڈین ایکسپریس (۱۵ دسمبر ۱۹۹۲) میں صفحہ اول پر اس خبر کی سرخی کا عنوان تھا کہ اب روسی جہاز اسٹرائک زدہ انڈین ایئرلائنز کی مدد پر : Now, Russian aircraft to the rescue of strike hit IA میں نے سوچا کہ اگر مجھ کو اس خبر کی سرخی بنانا ہو تو میں لکھوں گا کہ ــــــــ ہر کھوئی ہوئی چیز کا بدل اس دنیا میں موجود ہے۔ ۱۵ دسمبر ۱۹۹۲ کو صبح ۸ بجے دہلی سے بمبئی کے لئے روانگی ہوئی۔ یہ ایک روسی ساخت کا جہاز ہے ۔ اس کا تمام ٹیکنیکل عملہ روسی ہے۔ صرف میزبان عملہ میں کچھ ہندوستانی دکھائی دیتے ہیں۔ جہاز کی پرواز خوش گوار تھی۔ جہاز میں انڈین ایکسپریس (۱۵ دسمبر) کا مطالعہ کیا۔ اس میں بھوپال کی ڈیتھ لائن کے ساتھ مسٹر این ڈی شرما کی ایک رپورٹ چھپی تھی ۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ بھوپال میں تبلیغی جماعت کا سالانہ اجتماع ۱۹ - ۲۱ دسمبر کو ہونے والا تھا۔ توقع کے مطابق اس اجتماع میں دو لاکھ آدمی شریک ہوتے۔ مگر فسادات کی وجہ سے بھوپال میں ابھی تک کرفیو چل رہا ہے ، اس لئے ریاستی انتظامیہ کو تشویش ہوئی۔ مدھیہ پردیش کی حکمراں پارٹی (بی جے پی) نے بدل کے طور پر یہ تجویز کی کہ اجتماع کو مختصر طور پر غیر نمایاں انداز میں کیا جائے۔ اور تبلیغی جماعت کے لوگ راضی ہوگئے : As an alternative, the ruling party leaders have requested the organisers to keep it a low-key affair and they have agreed (p. 12). یہ نہایت صحیح فیصلہ ہے۔ اس طرح کے نازک مواقع پر اگر اس طرح ایڈ جسٹمنٹ کا طریقہ اختیار کیا جائے تو بیشتر سماجی جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ اسی مومنانہ مزاج کو حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ مومن کی مثال میدان میں اگی ہوئی گھاس کی مانند ہے ۔ ادھر کی ہوا چلی تو اُدھر جھک گیا اور اُدھر کی ہوا چلی تو ادھر جھک گیا۔ جہاز میں انڈین ایئرلائنز کا فلائٹ میگزین سو اگت کا شمارہ دسمبر ۱۹۹۲ مطالعہ کے لئے موجود تھا۔ اس کے ہندی سکشن میں ایک مضمون تھا جس کا عنوان تھا : گوپال نرائن پبلک لائبریری۔ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page