Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

اس میں بتایا گیا تھا کہ 6 دسمبر کے بعد بھیونڈی کی حالت مثالی (exemplary) رہی۔ بھیونڈی ایک حساس ٹاؤن سمجھا جاتا تھا مگر یہا ں بالکل کوئی فساد نہیں ہوا۔ چنانچہ ریاست مہاراشٹر کے مختلف مقامات سے انتظامیہ کے لوگ کیس اسٹڈی کے لئے بھیونڈی آئے۔ انھوں نے ہر جگہ معلومات حاصل کیں اور پانچ لاکھ روپیہ خرچ کرکے فلم ڈویژن نے ایک ڈاکومنٹری تیار کی۔ اس معجزاتی واقعہ کا سادہ سبب صرف ایک تھا۔ 6 دسمبر کے بعد جب تناؤ پیدا ہو تو دوسرے مقامات کے مسلمانوں نے "دفاع" کے اصول پر تیاریاں کیں۔ یہ دفاع عملاً فرقہ وارانہ فساد بن کر ظاہر ہوا۔ اس کے برعکس بھیونڈی کے مسلمانوں نے کئی محلہ کمیٹی بنائی۔ ان محلہ کمیٹیوں نے خود دفاع کرنے کے بجائے یہ کیا کہ جہاں کہیں کشیدگی کی صورت پیدا ہوئی فوراً وہاں پہنچ کر لوگوں کو ٹھنڈا کیا اور حسب ضرورت پولیس کو اطلاع دی۔ جب بھی انھوں نے ایسا کیا، پولیس صرف چند منٹ میں وہاں پہنچ گئی اور فوری کارروائی کرکے معاملہ کو ختم کر دیا۔ بم پر بم مارنا فساد پیدا کرتا ہے۔ بم کو ڈفیوز کرنا فساد کو ابتدا ہی میں ختم کر دیتا ہے۔ بمبئی میں دو گھنٹہ قیام کے بعد بذریعہ کار پونہ کے لئے روانگی ہوئی۔ راستہ میں ایک جگہ نظر آیا کہ دو ٹرک سڑک کے ادھر اُدھر الٹے پڑے ہیں۔ معلوم ہوا کہ دونوں آمنے سامنے سے آرہے تھے غالباً ڈرائیور نشے میں تھا۔ اس نے گاڑی کو کنارے نہیں کیا۔ اور ٹکر ہوگئی۔ میں نے دیکھا تو ایک ٹرک کے پیچھے ہندی میں لکھا ہوا تھا: سنڈے ہو یا منڈے، روز کھاؤ انڈے ۔ میں نے سوچا کہ ٹکر ہونے سے پہلے دونوں اس بھرم میں ہوں گے کہ میرا ٹرک میرا ٹرک ہے اس کو نقصان ہونے والا نہیں۔ اگر کچھ ہوا تو صرف دوسرے کا، ہوگا۔ مگر جب ٹکر ہوئی تو دونوں کے دونوں تباہ ہو گئے۔ یہی عام جھگڑوں میں ہوتا ہے۔ دو فریق جب لڑتے ہیں تو پیشگی طور پر دونوں میں سے ہر ایک اپنے کو فاتح سمجھتا ہے۔ مگر لڑائی ہو جانے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ لڑائی دونوں کے حق میں تباہ کن تھی۔ دونوں میں سے کسی کو بھی اس سے فائدہ نہیں پہنچا۔ پونہ کی حد میں داخل ہوئے تو ریزرو بینک آف انڈیا کی بلڈنگ کے پاس ڈرائیور نے کسی وجہ سے گاڑی روکی۔ ہم تین آدمی (آچاریہ منی سوشیل کمار، سوامی چید اندر اور میں تھے ۔ ہم نے سوچا کہ یہاں سے اپنے میزبان کو ٹیلی فون کر دیں تاکہ انھیں معلوم ہو جائے کہ ہم پونہ میں پہنچ چکے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page