Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 77

By Maulana Wahiduddin Khan

لائبریری بھرت پورہ (بہار) میں واقع ہے۔ مضمون میں اس کا تفصیلی تعارف تھا۔ بتایا گیا تھا کہ اس میں بہت سے قدیم مخطوطات ہیں۔ ان میں سے کئی چیزوں کے فوٹو بھی دیئے گئے تھے۔ ایک فوٹو سے معلوم ہوا کہ اس لائبریری میں بہت سے قدیم کتبات ہیں۔ ایک کتبہ میں یہ فارسی شعر تھا کہ بلند ہمت آسمان سے بھی اوپر اٹھ جاتا ہے اور آدمی بہت کے ذریعہ فرشتہ سے آگے چلا جاتا ہے : ہمت عالی ز فلک بگذر د مرد به همت ز ملک بگذر د صبح تقریباً ساڑھے نو بجے ہم بمبئی ایئرپورٹ پر اتر گئے۔ لینڈنگ اتنی اسموتھ تھی کہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ جہاز زمین پر اتر گیا ہے۔ بمبئی ایئرپورٹ میں داخل ہوا تو وہی مانوس منظر تھا جو ہر ایئرپورٹ پر دکھائی دیتا ہے۔ لوگ مخصوص گاڑی سنبھال کر اپنا اپنا سامان لینے کے لئے کنویر بیلٹ کی طرف دوڑ رہے تھے۔ ایئرپورٹ سے ہم سب کو مسٹر رویندر کمار کی رہائش گاہ پہنچنا تھا۔ میں جس گاڑی میں تھا اس کو خود مسٹر رویندر کمار چلا رہے تھے۔ گفتگو کے دور ان انھوں نے کہا کہ بمبئی کا ایک مسلمان میکانک جس کی عمر ۲۸ سال تھی۔ وہ اس فساد میں مارا گیا۔ بہت اچھا لڑکا تھا۔ مجھ سے بہت پریم تھا۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ بٹوارہ کے بعد دونوں فرقوں میں جو کڑواپن آیا تھا وہ اب ختم ہو چکا تھا۔ نئی پیڑھی کو ان پرانی باتوں کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ لیکن اجودھیا کے جھگڑے کے بعد وہی دوری دوبارہ لوٹ آئی۔ یہ بہت صبح ہے۔ دنیا میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو آدمی یا دو گروہ میں کچھ شکایت کی باتیں ہو جاتی ہیں۔ مگر فطرت بہت جلد ان کو بھلا دیتی ہے۔ پہلے جھگڑے کے بعد اگر دوسرے جھگڑے سے بچنے کا اہتمام کیا جائے تو فطرت خود مرہم کا کام کرتی ہے۔ اور تعلقات نارمل حالت پر آجاتے ہیں۔ ۶ دسمبر کے واقعہ کے بعد بمبئی کے بعض علاقوں میں شدید فساد ہوا۔ مگر یہاں کا سب سے زیادہ حساس علاقہ بھیونڈی فساد سے مکمل طور پر بچار ہا۔ سابقہ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ انتہائی انوکھا واقعہ تھا۔ چنانچہ بھیونڈی ایڈمنسٹریشن کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ بمبئی کے ٹائمس آف انڈیا (۲۲ دسمبر ۱۹۹۲) میں ایک رپورٹ پڑھی۔ رپورٹر کا نام پرکاش چندر تھا، اور اس کا عنوان یہ تھا : ACPs study Bhiwandi's technique of peace

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page