Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

غلطی کی آگ کو پہلے ہی مرحلہ میں بجھا دیتا ہے۔ پونہ میں عبدالصمد صاحب نے ببیٹی کے دو اخبار دکھائے۔ ایک روز نامہ انقلاب تھا۔ اس کے شمارہ ۷ دسمبر ۱۹۹۲ میں بابری مسجد کے ڈھائے جانے پر مختلف اصحابِ فکر کا رد عمل شائع کیا گیا تھا۔ جناب محمود ایوبی صاحب کا شاعرانہ الفاظ میں نقل کیا گیا تھا: "اس صورتِ حال کو پیدا کرنے میں یقیناً بی پی، وی ایچ پی، اور سنگھ پر تلوار کا ہاتھ ہے۔ لیکن ان کے ہاتھ مضبوط کرنے میں بابری مسجد کے نام پر سیاسی دکان چمکانے والے مسلم لیڈروں نے بھی کافی اہم رول انجام دیا ہے۔ مسلم لیڈر ر صاحبان جو آج صبر کی تلقین کر رہے ہیں، وہی باتیں جب الرساله والے مولانا وحید الدین خاں لکھتے اور کہتے تھے تو یہ کہا جاتا تھا کہ یہ بز دلی کی تعلیم دے رہے ہیں۔ ان ہی لیڈروں نے لوگوں کو مشتعل کیا اور ہمیں آج یہ دن دیکھنا پڑا۔ اچھی بات ہے کہ مسلمان صبر و ضبط کا ثبوت دے رہے ہیں۔" ہفتہ وار بلٹز کے شمارہ ۱۲ دسمبر ۱۹۹۲ میں اس کے ایڈیٹر جناب ہارون رشید علیگ کا کا مضمون تھا۔ اس کا ایک پیراگراف یہ تھا: "ہر چند کہ ملک میں فسادات کی لہر پھیلی ہوئی ہے، مسلمانوں نے بڑے صبر و تحمل اور ٹھنڈے دل و دماغ سے کام لیا ہے۔ ورنہ تباہی و بربادی اور بھی زیادہ ہوتی۔ وہ نام نہاد مسلم لیڈر جو اشتعال انگیز بیان دینے میں بے مثال تھے، وہ بھی آج مولانا وحید الدین خاں کی بولی بول رہے ہیں اور قوم کو صبر و ضبط سے کام لینے کی تلقین کر رہے ہیں۔" پونہ میں لوگوں نے ایک ماروتی وین تیار کی تھی اس میں مجھ کو سفر کرنا تھا۔ میرے ساتھ پونہ کے چند مسلم احباب بھی شامل رہتے۔ اس طرح میں ایک علیحدہ گاڑی میں اپنے احباب کے درمیان سفر کرتا۔ ٹھہرنے کے مقام پر کسی مسلمان کے یہاں ٹھہرتا اور اجتماع کے وقت پہنچ پر جاکر تقریر کر دیتا اور پھر اپنے لوگوں میں واپس چلا آتا۔ یہ طریقہ مقصد سفر کے خلاف تھا۔ چنانچہ میں نے مذکورہ ماروتی وین پونہ میں روک دی۔ مسلم احباب کو بھی سفر سے منع کر دیا۔ میں نے طے کیا کہ مجھے شانتی یا ترا کی بقیہ ٹیم کے ساتھ ہی اپنا پورا وقت گزارنا ہے۔ چلنا، اٹھنا اور بیٹھنا، سونا اور کھانا۔ غرض اس دوران دن اور رات انھیں لوگوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page