Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 81

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ رہتا ہے۔ تاکہ ایک طرف شانتی یا ترا کے پروگراموں میں مکمل شرکت ہو اور اسی کے ساتھ برادران وطن سے قریبی تعارف بھی ہو سکے۔ چنانچہ یہ پورا سفر اسی طرح گزرا۔ ۱۷ دسمبر ۱۹۹۲ کی صبح کو پونہ سے شانتی یا ترا شروع ہوئی۔ سامنے ایک جیپ میں شانتی گیت کی ریکارڈنگ چل رہی تھی۔ پیچھے ہماری کاروں کا قافلہ تھا۔ یہی صورت آخری تک جارہی رہی جیپ سے جو گیت نشر ہو رہا تھا وہ بڑا اثر انگیز تھا۔ گیت کا ایک شعر یہ تھا: یہ بھی بھلا کسی سے کرنا سکوتو برا کسی سے مت کرنا ایک اور گیت کے کچھ شعر یہ تھے: آشا کی دیپک جلنے دو ٹوٹے ہوئے دل کو جڑنے دو سب کو اک راہ دکھانا ہے بادھائیں دور ہٹانا ہے اتحاس کے پنے لکھنے دو گنگا جمنا کو ملنے دو آخری شعر سن کر میرے دل کی عجیب کیفیت ہوگئی۔ ایسا محسوس ہوا کہ وہ بات گیت بن کر سڑکوں پر گونج رہی ہے جس کو سوامی ویویکانند نے سو سال پہلے کہا تھا کہ میں اپنے مستقبل کی آنکھ سے دیکھ رہا ہوں کہ اسلام باڈی اور ہندو بہین دونوں مل کر نئے شاندار انڈیا کی تعمیر کر رہے ہیں۔ دل میں یہ تمنا ابھری کہ گنگا اور جمنا کے یہ دھارے ایک ہو کر کاش ایک بڑا سیلاب بن سکیں۔ یہ شانتی یا ترا جگہ جگہ سے گزرتی ہوئی ۱۵ دسمبر سے ۲۱ دسمبر تک جاری رہی۔ وہ پونہ سے شروع ہوئی پھر چاکن، منچر، سنگم نیر، ارادھنا، ادیاں، ناندگاؤں، مالیگاؤں، شری رام پور، نواسا، اورنگ آباد، جالنا، بیڑ، عثمان آباد، لاتور، احمد پور، ناندیڑ، پربھنی، ہنگولی، آکولہ ، امراوتی، سیوا گرام، وردھا، ناگپور پہنچی۔ ناگپور اس یا ترا کا آخری مقام تھا۔ ۱۵ دسمبر ۱۹۹۲ کو پونہ سے شانتی یا ترا شروع ہوئی۔ اور ۲۰ اکتوبر کو ناگپور میں ختم ہوئی۔ ہر جگہ ٹیلی فون کے ذریعہ پیشگی طور پر تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے تھے۔ اس علاقہ میں تناؤ کی وجہ سے جلسہ جلوس بالکل ممنوع ہے۔ مگر پونہ کے مسٹر شانتی لال موتھا کے اثر ورسوخ اور ان کی کوششوں سے ہر جگہ کے لئے اجازت حاصل ہوگئی۔ اور یہ سب کچھ صرف چند دنوں میں انجام پایا۔ طریقہ یہ تھا کہ بستی میں داخل ہو کر پہلے ایک گھنٹہ یا دو گھنٹہ تک پیدل سفر (پدیا ترا) کی جاتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page