Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر راشٹر ہیں تو یہ مہاراشٹر ہے۔ اس لئے بالکل پنچرل تھا کہ اس کو پہلے لیا جائے ۔ کیوں کہ مہاراشٹر میں شانتی آجائے تو اس کا اثر سارے راشٹر پر پڑے گا۔ اس سفر میں میری ملاقات ایک ہندو لیڈر سے ہوئی ۔ وہ انتہا پسند ہندو گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے کہا کہ میں آپ سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ شرط یہ ہے کہ آپ کسی ریزرویشن کے بغیر مجھ سے بات کریں۔ وہ راضی ہوئے تو ہم دونوں ایک الگ کمرہ میں بیٹھے اور پھر دونوں میں بات شروع ہوئی۔ میں نے پوچھا کہ آپ ہندوستانی مسلمانوں سے کیا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ایک لفظ میں یہ کہ (live or leave) یعنی بھارت میں رہنا ہے تو ہمارے کہنے کے مطابق رہو ، ورنہ دیش چھوڑ کر چلے جاؤ ۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ اب یہ بتائیے کہ مسلمان اگر دونوں میں سے کوئی کام نہ کریں ، وہ نہ آپ کے کہنے پر چلیں اور نہ دیش کو چھوڑ کر باہر جائیں ، تو پھر آپ کیا کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ پھر ہم ان کو سبق سکھا دیں گے۔ میں نے کہا کہ وہ کیسے ۔ انھوں نے کہا کہ ہندو ابھی تک اپنی طاقت کو نہیں جانتا تھا۔ اب رام مندر موومنٹ کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ ہندو نے اپنی طاقت کو جان لیا ہے ۔ آپ نے دیکھ لیا کہ ہندو طوفان کے مقابلہ میں بابری مسجد اور سپریم کورٹ کے فیصلے تنکے کی طرح بہہ گئے ۔ پھر یہ مسلمان کس طرح اس سیلاب کا مقابلہ کریں گے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ اپنی بات کہہ چکے ۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ۔ میں نے کہا کہ اجودھیا کا اسٹرکچر پتھروں کا ڈھیر تھا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ کچھ لفظوں کا مجموعہ تھا۔ آپ پتھر کے ڈھانچہ اور لفظوں کے مجموعہ کو انسان سے برابر (equate) کر رہے ہیں۔ آپ کا یہ ایکوئیشن غلط ہے۔ پتھروں کے ڈھانچے کسی طوفان میں گر سکتے ہیں۔ الفاظ کے اوراق کسی آندھی میں اڑ سکتے ہیں۔ مگر پندرہ کروڑ انسانوں کے اوپر رولر چلانا کسی طرح ممکن نہیں۔ میری یہ بات سن کر وہ خاموش ہوگئے ۔ ہم سنگم نیر میں داخل ہوئے تو ہماری آگے کی جیپ پر اس کے الفاظ گونج رہے تھے گنگا جمنا کو ملنے دو۔ ہماری پارٹی کے ایک شخص نے کہا کہ ہمارا دیش گنگا اور جمنا کا سنگم ہے۔ اسی طرح یہ دیش مختلف کلچر کا بھی سنگم ہے۔ سنگم نیر دیش کے اس پہلو کی ایک مثال بن جائے تو یہ اس کے نام کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page