شانتی یاترا
Urdu book, p. 85
By Maulana Wahiduddin Khan
لحاظ سے اس کے لئے سب سے اچھی بات ہوگی۔ ار آدھنا ادیان میں ہم لوگ ایک جین مندر میں گئے۔ وہاں کھانے کا انتظام تھا۔ اس کے مختلف حصوں کو دکھاتے ہوئے ہم کو ایک چھوٹے کمرے میں لے جایا گیا۔ یہاں ایک بستر بچھا ہوا تھا۔ اس پر ایک بوڑھے آدمی لیٹے ہوئے تھے۔ چادر اٹھائی گئی تو میں نے دیکھا کہ وہ بالکل دبلے ہو چکے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہڈی کے ڈھانچہ کے اوپر ایک سوکھی کھال لپٹی ہوئی ہے۔ بولنے کی طاقت بھی ان میں باقی نہیں رہی تھی۔ تاہم آنکھ کھول کر وہ آنے جانے والے کو دیکھ سکتے تھے۔ پہلے میں نے سمجھا کہ بیماری کی وجہ سے ان کا یہ حال ہوا ہے۔ مگر پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ جین مذہب کے مطابق وہ عمل کر رہے ہیں جس کو سنتھار کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ صرف جین دھرم میں ہے ۔ اس میں آدمی خود اپنے ارادہ سے ہر قسم کا کھانا اور پانی مکمل طور پر چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اسی طرح بھوکا پیاسا پڑا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن مر جاتا ہے۔ ایک چینی اچاریہ نے اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ ہم مریتو سے نہیں مرتے، ہم اپنی مرضی سے شریر چھوڑ دیتے ہیں۔ دوسرے چینی نے کہا: ڈس کس کئے جانے سے پہلے ہم خود ہی رزائن کر دیتے ہیں۔ اس دنیا میں کوئی شخص کتنا ہی زیادہ غیر معقول رویہ اختیار کرے، اس کو بہر حال اپنے عمل کو درست ثابت کرنے کے لئے الفاظ مل جائیں گے۔ اچاریہ من سوشیل کمار نے یہ لطیفہ بتایا کہ غلام احمد قادیانی نے ایک عورت سے یہ کہہ کر نکاح کیا کہ اس سے ایک لڑکا پیدا ہوگا جو میری جانشینی کرے گا۔ نکاح ہو گیا مگر اس خاتون سے کوئی لڑکا پیدا نہ ہو سکا۔ بلکہ دو لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ ایک اردو اخبار نے مرزا صاحب کی اس بات کو نقل کرتے ہوئے ان کا مذاق اڑایا۔ مرزا صاحب نے جواب دیا: اس عقل کے اندھے کو پتہ نہیں کہ دو اٹھنی مل کر ایک روپیہ بن جاتا ہے۔ تمثیل کے ذریعہ استدلال کتنا کمزور ہوتا ہے، یہ واقعہ اس کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ نالیگاؤں میں ، ۱۰ دسمبر کی رات گزارنی۔ پدیا ترا کے بعد ایک بڑا اجتماع ہوا۔ ہند و اور مسلمان دونوں اس میں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ دوسرے لوگوں کی تقریروں کے ساتھ میری بھی تقریر ہوئی۔ اگلی صبح کو فجر کی نماز کے بعد کچھ لوگ ملاقات کے لئے قیام گاہ پر آئے۔ جناب محمد لقمان صاحب نے وہاں کے ایک صاحب کے بارہ میں بتایا کہ کل وہ میرے ساتھ آپ کو سننے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader