Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 90

By Maulana Wahiduddin Khan

سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ امن و شانتی کے کتنے زیادہ خواہشمند ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان امن و سکون ہی کو پسند کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں کیا وجہ ہے کہ کبھی کبھی ہمارے درمیان دنگا ہو جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض چیزیں جس کو بھلا وے کے خانہ میں ڈالنا تھا اس کو بر محل کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ پیدا کرنے والے نے جب انسان کو پیدا کیا تو اسی کے ساتھ اس نے ایک اور چیز پیدا کی جس کو آپ گلاب کہتے ہیں۔ گلاب کا پھول پھولوں کا راجہ ہے۔ کتنا اچھا ہوتا ہے وہ۔ لیکن گلاب کا پھول جس ڈنٹھل میں اگتا ہے، اس میں ساتھ ہی کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ اس طرح گویا فطرت کے ایک واقعہ کی زبان میں یہ پیغام دیا گیا کہ اس دنیا میں ہمیشہ پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہوں گے ۔ یہاں اگر پھول لینا ہے تو کانٹے کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ کانٹے کو نظر انداز کیے بغیر اس دنیا میں پھول جیسی قیمتی چیز نہیں مل سکتی۔ اسی اصول پر ہمیں اپنی سماجی زندگی کو چلانا چاہئے۔ ۱۸ دسمبر کو بیٹیر پہنچے۔ بے شمار لوگ شانتی یاترا میں شریک ہوگئے۔ آخر میں جب اجتماع ہوا تو اتنے آدمی اکٹھا ہوئے کہ دور دور تک آدمی ہی آدمی دکھائی دیتے تھے۔ دوسروں کے ساتھ میری بھی کسی قدر مفصل تقریر ہوئی۔ تقریر کے بعد بہت سے لوگوں نے غیر معمولی تاثر کا اظہار کیا۔ ایک مقامی ہندو جرنلسٹ راجندر منت نے بتایا کہ میں آگے منچ کے پاس بیٹھا تھا۔ میرے قریب ہی یہاں کے کلکٹر مسٹر سنجے کمار شرما بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آپ کی تقریر بہت غور سے سن رہے تھے اور اس سے اثر لے رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ آپ کی تقریر سنتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ احمد پور میں شانتی یاترا کے پروگرام کی تکمیل کے بعد ایک ہندو لیڈر مسٹر کیدار سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ۶ دسمبر کے بعد کا مبٹی میں کچھ واقعات ہوئے ۔ اس میں ایک مندر بھی توڑ دیا گیا ۔ اس کے بعد وہاں ہندو اور مسلمان جمع ہوئے۔ سب نے اس کام کی مذمت کی اور طے کیا کہ دونوں مل کر دوبارہ مندر تعمیر کریں گے ۔ چنانچہ دونوں فرقہ کے لوگوں نے مل کر خود اپنے ہاتھ سے مندر کی نئی تعمیر کی ۔ اس میں کوئی بھی سرکاری امداد قبول نہیں کی گئی۔ ۱۹ دسمبر ۱۹۹۲ کو دو پہر کے وقت ہمارا قافلہ لاتور پہنچا۔ لاتور (Latur) کا نام پہلے لاتر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page