Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 89

By Maulana Wahiduddin Khan

امن کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ، کالونی کے ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک ٹیم پہرہ داری کے لئے مقرر کی گئی ۔ اس میں کوئی نوجوان نہیں لیا گیا۔ سب ادھیڑ عمر کے لوگ شامل تھے۔ ان کوششوں کے نتیجہ میں عین فساد کے زمانہ میں بھی گوگنڈہ کالونی پوری طرح فساد سے محفوظ رہی۔ حتیٰ کہ وہاں کرفیو لگانے کی نوبت بھی نہیں آئی۔ فساد کے بم سے بچنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ دانش مندی کے ذریعہ فساد کے بم کو ڈیفیوز کر دیا جائے ۔ فرقہ وارانہ فساد کے نقصان سے بچنے کی اس کے سوا کوئی بھی دوسری تدبیر نہیں۔ اورنگ آباد میں شاتنی یا ترا پروگرام معمول کے مطابق مکمل کرنے کے بعد ہم نے یہاں کے گیسٹ ہاؤس میں رات گزاری ۔ مجھے یاد آیا کہ سر جادو ناتھ سرکار نے اپنی تاریخی کتاب (Aurangzeb) میں لکھا ہے کہ 1۶۵۸ء میں جب کہ انڈیا میں اورنگ زیب کی حکومت تھی۔ اورنگ آباد میں اجناس کا ریٹ یہ تھا : گیہوں اور دال ایک روپیہ میں ڈھائی من ، جوار اور باجر ا ایک روپیہ میں ساڑھے تین من ، گڑ ایک روپیہ میں آدھامن ، گھی ایک روپیہ میں چار سیر (جلد ا، صفحہ ۱۷۳) یہ ساڑھے تین سو سال پہلے کی بات ہے۔ اس وقت روپیہ مہنگا تھا اور چیزیں سستی تھیں ۔ اب چیزیں مہنگی ہیں اور روپیہ سستا ہے۔ عام انسان کے لئے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ البتہ یہ کہ قدیم انسان کے لئے مزید یہ تھا کہ اس کو سکون کی نعمت حاصل رہتی تھی ۔ جب کہ آج یہ حالت ہے کہ نہ کم والے کو سکون ہے اور نہ زیادہ والے کو۔ جالنہ میں پدر یاترا کے بعد بہت بڑا اجتماع ہوا۔ دور تک آدمی ہی آدمی دکھائی دے رہے تھے۔ تقریروں میں شام ہوگئی ۔ یہاں شام سے صبح تک کا کرفیو رہا ہے۔ لوگ نہایت دلچسپی کے ساتھ سن رہے تھے۔ مگر کرفیو کے اندیشہ کی وجہ سے آخر میں اٹھنے لگے۔ جالنہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ मंच کے سامنے زمین پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے فوراً اعلان کرایا کہ آپ لوگ کرفیو کا دھیان نہ کریں۔ آخر تک یہاں کے بیانات کو سنیں۔ اور اس کے بعد اطمینان کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس جائیں ۔ چنانچہ جلسہ کی کارروائی مزید دیر تک جاری رہی۔ میں نے جالنہ کی تقریر میں کہا کہ یہاں اتنے آدمی ہیں جیسے کہ پوری بستی امنٹ آئی ہے۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page