شانتی یاترا
Urdu book, p. 92
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارے میزبان تھے ۔ ناندیڑ میں بڑی تعداد میں رسالہ کے قارئین موجود ہیں ، مگر شانتی یا ترا کا پروگرام بہت کم وقت میں بنا تھا ۔ اس لئے مقامی طور پر اس کی زیادہ پبلسٹی نہ ہوسکی ۔ چنانچہ قارئین رسالہ کی بہت تھوڑی تعداد سے ملاقات ہوسکی ۔ آل انڈیا ریڈیو (ناندیڑ) کی ٹیم نے ایک انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کا موضوع اسلام تھا۔ انٹرویو رنے پوچھا کہ اسلام کیا ہے ، اس کے بارے میں آپ ہمارے سننے والوں کو بتائیں۔ میں نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں ، 10 منٹ تک کچھ بنیادی باتیں بتائیں۔ میں نے خاص طور پر دو آیتوں کی تشریح کی۔ ان مع العسر یسرا۔ اور و أما ما ينفع الناس فيمكث في الأرض ۔ اس سفر کے دوران میں نے محسوس کیا کہ ہندو صاحبان اسلام کے بارے میں سننا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ جب بھی میں نے اسلام کے حوالے کے بغیر عمومی انداز میں کچھ کہنا چاہا تو انھوں نے تقاضا کیا کہ آپ اسلام کے حوالے سے ہمیں بتائیں۔ ہم ایک عالم کی زبان سے یہ سننا چاہتے ہیں کہ اسلام کیا ہے ۔ ناندیڑ میں ہمارا ارارات کا قیام مسٹر پر کاش چند شیٹی کے نئے تعمیر شدہ گیسٹ ہاؤس میں تھا ۔ وہ ٹرانسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں۔ ان کی کمپنی کا نام سری شانتی روڈویز ہے۔ میری عادت ہے کہ میں ہر آدمی سے اس کے اپنے میدان کی بات کرتا ہوں۔ مجھے ہمیشہ سنانے سے زیادہ سننے کا شوق رہتا ہے۔ میں نے مسٹر شیٹی سے کہا کہ ہم نے اس سفر کے دوران سڑکوں پر چھٹہ ٹرک الٹے ہوئے دیکھے ۔ آخر سٹرک کے یہ حادثات کیوں ہوتے ہیں۔ کیا اس کا سبب انجن کی خرابی ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ بہت ہی کم ایسا ہوتا ہے کہ سڑک کا کوئی حادثہ انجن کی خرابی کی وجہ سے ہو۔ وہ تقریباً ہمیشہ ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جو گاڑیاں اس وقت استعمال ہو رہی ہیں، ان کے بریک اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ بہت ہی کم اس کا چانس ہوتا ہے کہ وہ فیل ہو جائیں۔ اصل یہ ہے کہ ڈرائیور کبھی نشہ میں ہوتا ہے۔ کبھی رات کو گاڑی چلاتے ہوئے اسے اس کو جھپکی آ جاتی ہے۔ اس بن پر حادثہ پیش آجاتا ہے۔ میں نے سوچا کہ انسانی زندگی کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ عام انسانوں کی حیثیت گاڑی جیسی ہے، اور لیڈر کی حیثیت ڈرائیور جیسی۔ سماج میں جو فسادات پیش آتے ہیں وہ حقیقتاً عام انسانوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader