Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی خرابی کی وجہ سے پیش نہیں آتے۔ وہ ہمیشہ لیڈروں کی نالائقی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ اگر یہ لیڈر اپنے گھروں میں چپ ہو کر بیٹھ جائیں تو موجودہ فسادات اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ کیوں کہ اس کے بعد فطرت انسانوں کی رہنما ہوگی۔ اور فطرت کبھی رہنمائی میں غلطی نہیں کرتی۔ ناندیڑ میں ہم لوگ یہاں کا مشہور گوردوارہ دیکھنے گئے جو گرو گوبند سنگھ کے نام پر بنا ہے۔ یہ بہت بڑا اور بہت صاف ستھرا ہے۔ وہ ایک مکمل سکھ ادارے کے طور پر چلا جا رہا ہے۔ گرو گوبند سنگھ سکھوں کے دسویں اور آخری گرو ہیں۔ وہ ١۶۶۶ء میں پٹنہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے خالصہ تنظیم قائم کی جو ایک مسلح سکھ تنظیم تھی۔ وہ پنجابی کے علاوہ فارسی، عربی اور سنسکرت زبانیں بخوبی جانتے تھے۔ انھوں نے دسم گرنتھ کو مرتب کیا۔ ایک روز وہ اپنے مریدین کے درمیان تھے۔ لمبے مراقبہ کے بعد اچانک انھوں نے سر اٹھایا اور کہا کہ میری تلوار ایک سر مانگتی ہے۔ تم میں سے کون یہ قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔ اضطراب اور خاموشی کے ایک وقفہ کے بعد ایک شخص اٹھا۔ اس نے کہا کہ میں اس قربانی کے لئے تیار ہوں۔ گرو گوبند سنگھ اور وہ آدمی دونوں ایک بند خیمہ میں چلے گئے۔ کچھ دیر کے بعد گرو گوبند سنگھ خون آلود تلوار کے ساتھ باہر آئے، اور دوبارہ اسی قسم کی قربانی کی مانگ کی۔ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ یہاں تک کہ ایک کے بعد ایک پانچ آدمی "قربان" ہو گئے۔ آخر میں پانچوں آدمی زندہ حالت میں باہر آئے۔ گرو گوبند سنگھ نے صرف ان کی وفاداری کو آزمایا تھا۔ اس کے بعد ان پانچ افراد کو "پنج پیارا" کا لقب دیا گیا۔ یہ اس خالصہ تنظیم کے بنیادی ارکان تھے جو انھوں نے ١۶٩٩ میں قائم کی۔ گرو گوبند سنگھ سکھوں میں فائٹنگ اسپرٹ پیدا کرنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے ایک طرف مغلوں سے اور دوسری طرف پہاڑی قبائل سے جنگ چھیڑ دی۔ اس جنگ میں انھوں نے غیر معمولی بہادری دکھائی۔ تاہم ٧ اکتوبر ١٧٠٨ء میں وہ ناندیڑ میں قتل کر دئے گئے۔ ان کی قتل گاہ پر ناندیڑ کا موجودہ گوردوارہ بنا ہوا ہے۔ مغل دار وگیر کے زمانہ میں گوردواروں کی ایک بڑی تعداد ہند و مہنتوں کے قبضہ میں چلی گئی۔ برٹش دور میں سکھوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ کوشش کے بعد آخر کار برٹش حکومت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page