Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 95

By Maulana Wahiduddin Khan

سارا زور تعلیم پر دیا گیا ہوتا تو ہمارے بقیہ مسائل اپنے آپ حل ہوجاتے۔ قوم کو تعلیم یافتہ بنانا قوم کو باشعور بنانا ہے ، اور جو لوگ باشعور ہو جائیں ان کے بقیہ تمام مسائل اپنے آپ حل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہنگولی میں شانتی یا ترا کے بعد حسب معمول جلسہ ہوا۔ اس میں مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ میں نے اپنی تقریر میں مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسلمان علامہ اقبال کے پرستار ہیں۔ علامہ اقبال نے ایک حدیث کے حوالے سے کہا ہے کہ ہندوستان وہ ملک ہے جس کے بارہ میں پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اس کی طرف سے مجھ کو ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں: میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے میں نے کہا کہ ہمارے پیغمبر کو جس ملک میں ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہوئی محسوس ہوئی تھیں، وہاں رہ کر ہم کو بھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ملنے چاہئیں۔ جہاں پیغمبر کو ٹھنڈی ہو املتی و ہاں ہم کو گرم ہوا ملے تو ہم کو اس جگہ سے شکایت نہیں ہونی چاہیے بلکہ خود اپنا احتساب کرنا چاہئے کہ ایسا تو نہیں کہ خود ہماری کسی غلطی سے وہاں کی ٹھنڈی ہوا ہمارے لئے گرم ہوابن گئی ہو۔ میں نے کہا کہ میرے نزدیک اصل معاملہ یہی ہے۔ ہم اس ملک میں پیغمبر والے احساس کے ساتھ نہیں رہ رہے ہیں۔ وہ صبر کے احساس کے ساتھ رہتے تھے۔ ہم بے صبری کے احساس کے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی فرق کی وجہ سے ایسا ہوا ہے کہ ٹھنڈی ہواؤں کا دیش ہمارے لئے گرم ہواؤں کا دیش بن گیا ہے۔ ۲۰ دسمبر کو ہم اکولہ میں تھے۔ پروگرام کی تکمیل کے بعد شام کا کھانا ہم لوگوں نے یہاں کے ایک تاجر مسٹر دلیپ کو ٹھاری (26688 .Tel) کے یہاں کھایا۔ کھانے کے بعد واش بیسن پر ہاتھ دھور ہا تھا۔ ایک نوجوان تولیہ لے کر آیا۔ اس نے کہا : مولانا صاحب ، میرا نام محبوب ہے، میرے لئے دعا کریں میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ تندرست اور خوش پوش نظر آیا۔ اس نے کہا کہ یہ لوگ مجھ کو بہت مانتے ہیں۔ مجھے کوئی تکلیف نہیں ہونے دیتے۔ اس کے بعد مسٹر کو ٹھاری نے کہا کہ ہمارے علاقہ میں کوئی بھید بھاؤ نہیں۔ دیکھئے یہ مسلمان لڑکا ہمارے یہاں دس سال سے گھریلو ملازم کے طور پر ہے۔ مگر ہم اس کو اپنے بیٹے کی طرح رکھتے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page