Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک مسلمان لڑکے سے اس کی شادی بھی ہم نے خود کرائی ہے۔ دونوں خوشی خوشی ہمارے گھر میں رہ رہے ہیں۔ انسان عام طور پر فطرت کی سطح پر جیتے ہیں ۔ اور فطرت کی سطح پر ہمیشہ ایک دوسرے کے درمیان اچھے تعلقات ہی ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے لیڈر چھوٹے اشولے کر لوگوں کی سوچ بگاڑ دیتے ہیں اور یہیں سے فساد کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ نا اہل لیڈر فطرت کے نظام کو بگاڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ یہ وہی چیز ہے جس سے قرآن میں ان الفاظ میں منع کیا گیا ہے : لا تفسدوا في الارض بعد اصلاحها۔ آکولہ میں ۶ دسمبر کے بعد کچھ فسادات ہوئے اور جان و مال کا نقصان بھی ہوا۔ مسٹر رویندر کمار نے بتایا کہ یہاں مسلمانوں کی ایک درگاہ ہے۔ ۶ دسمبر کی صبح کو کچھ ہندوؤں نے درگاہ پر دھاوا کر دیا۔ اور اس کی عمارت کو نقصان پہنچایا۔ مگر اس کے بعد خود ہندوؤں نے اس پر افسوس ظاہر کیا۔ اسی دن شام کو بہت سے ہندو درگاہ پہنچے۔ انھوں نے اس کی مرمت اور تعمیر شروع کر دی۔ وہ لوگ ساری رات کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ۸ دسمبر کی صبح طلوع ہوئی تو درگاہ دوبارہ بن کر تیار ہو چکی تھی۔ اس واقعہ کو سن کر میں نے کہا کہ درگاہ کی دوبارہ تعمیر حقیقۂ فطرت انسانی کا کارنامہ تھا۔ انسان کی فطرت میں شرمندگی (repentance) کا نہایت گہرا جذبہ ہے۔ انسان غلطی کرنے کے بعد ہمیشہ پچھتاوے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اگر فریق ثانی دوبارہ غلطی کر کے انسانی فطرت کے عمل کو روک نہ دے تو یہ فطرت ضرور کام کرے گی ۔ تخریب کے بعد خود شرمندہ ہو کر دوبارہ تعمیر کے کام میں لگ جائے گی۔ شانتی یاترا کے دوران ۲۰ دسمبر ۱۹۹۲ کو ہم لوگ امراوتی پہنچے تھے۔ حسب معمول سڑکوں پر پدریاترا کے بعد ہم ایک مقام پر ٹھہرے ۔ یہاں ایک بڑا مجمع اکٹھا ہو گیا تھا۔ ابھار یہ منی سوشیل کمار اور سوامی چید آنند نے اپنی تقریر میں لوگوں سے شانتی قائم رکھنے کی اپیل کی۔ میں کھڑا ہو اتو سفر کے دوران نفرت کا ماحول اور فساد کے مناظر دیکھنے کی وجہ سے میری کیفیت عجیب ہو رہی تھی ۔ میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو بہہ پڑے۔ تقریر شروع کی تو میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے : شانتی یاترا کس لئے نکلی ہے ۔ یہ شانتی یاترا اس لئے نکلی ہے کہ جس آگ کو فائر بریگیڈ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page