Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

اسماء حسنیٰ: تلاشِ فطرت کا جواب

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

سے خدائے برتر کا تعارف نہیں ہیں، بلکہ وہ انسان کی نسبت سے اُس کے مطلوبِ خدا کا تعارف ہیں۔ چناں چہ جب کوئی انسان ان اسماءِ حسنیٰ کو اُن کی پوری معنویت کے ساتھ جان لیتا ہے تو اچانک اُس کو دریافت ہوتا ہے کہ وہ جس خدائے برتر کی تلاش میں تھا، اُس کا تعارف اُس کو اسماءِ حسنیٰ کی صورت میں مل گیا۔ مثال کے طور پر اسماءِ حسنیٰ میں سے ایک نام ’الغنی‘ ہے۔ غنی کے لفظی معنیٰ بے نیاز کے ہیں، یعنی وہ ہستی جس کو دوسروں سے کچھ لینے کی ضرورت نہ ہو، لیکن اس کو یہ طاقت ہو کہ وہ دوسروں کی تمام حاجتوں کو پورا کر سکے۔ یہ احساس ہر انسان کے اندر، شعوری یا غیر شعوری طور پر، چھپا ہوا ہے۔ اِس کے بعد جب انسان اسماءِ حسنیٰ کے ذریعے یہ جانتا ہے کہ خدا کی ایک صفت اُس کا غنی ہونا ہے، تو فوراً ہی وہ جان لیता ہے کہ وہ جس خدا کی تلاش میں تھا، اُس کو اُس نے یہاں دریافت کر لیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بتائی گئی ہے: یا ایہا الناس أنتم الفقراء إلی الله، و الله هو الغنی الحمید۔ یعنی اے لوگو، تم اللہ کے محتاج ہو، اور اللہ تو بے نیاز ہے، تعریف والا ہے (15: 35)۔ اسی طرح ایک اور جذبہ، جو سارے انسانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ ہر انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی مخلوق ہے جو رزق کی محتاج ہے۔ رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں، جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ انسان ہر لمحہ یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بہت سی چیزوں کا ضرورت مند ہے پانی، غذا، ہوا، آکسیجن اور روشنی، وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں نہایت متناسب انداز میں اور نہایت وافر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page