اسماءِ حسنیٰ
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتبار سے انسان کے لیے قابل فہم ماڈل نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ماڈل صرف کاغذ میں یا لفظوں میں پائے جاتے ہیں، وہ حقیقی معنوں میں انسانی شعور کا حصہ نہ بن سکے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دونوں ماڈل انسان کی نسبت سے ناقص ماڈل ہیں۔ آکار ماڈل، دوسرے لفظوں میں بُت کا ماڈل، ایک ایسے خدا کا تصور دیتا ہے جس کا ظاہر ایک فارم تو ہے، مگر وہ مکمل طور پر بے صفاتی (powerless) ہے۔ دوسری طرف، نرا کار ماڈل بظاہر ایک طاقت ہے، مگر یہ طاقت، کششِ ارض (gravity) کی طرح بے صفاتی (attributeless) ہے۔ اس طرح یہ دونوں ہی ماڈل، انسان کے معلوم فریم ورک کی نسبت سے مبہم ماڈل ہیں، وہ انسانی فطرت کا جواب فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ اسماء حسنیٰ دراصل اسی خلا کو پر کرتے ہیں۔ اسماء حسنیٰ: تلاشِ فطرت کا جواب اسماء حسنیٰ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے یہ تمام نام انسان کی نسبت سے خدا کا تعارف ہیں۔ انسان فطری طور پر اپنے سے ایک برتر ہستی کو چاہتا ہے۔ نفسیاتی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی حیوان (seeking animal) ہے۔ انسان اپنے پورے وجود کے اعتبار سے ایک ذاتِ اعلیٰ کا متلاشی ہے، ایک ایسی اعلیٰ اور برتر ذات جو اُس کی کمیوں کی تلافی کرے، جو اُس کے جذبات اور احساسات کا مرکز و محور بن سکے۔ اسماء حسنیٰ دراصل اِسی سوال کا جواب ہیں۔ اسماء حسنیٰ کا مطلب ہے، صفاتِ حسنیٰ۔ خدا کی یہ صفات جو اسماء حسنیٰ کے ذریعے بتائی گئی ہیں، وہ علی الاطلاق حیثیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader