Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

اسماءِ حسنیٰ

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

جیسا کہ معلوم ہے، خدا کا ایک نام ’الغفور‘ ہے۔ غفور کے تصور میں انسان پوری طرح اپنے لیے ذہنی تسکین کا سامان پا لیتا ہے۔ قرآن کی یہ آیت اس معاملے میں انسان کی رہ نما ہے: قُل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله، إن الله يغفر الذنوب جميعاً، إنه هو الغفور الرّحيم۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بے شک، اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے (53: 39)۔ پوائنٹ آف ریفرنس قرآن میں خدا کے جو اسماءِ حسنیٰ بتائے گئے ہیں، اُن میں سے ہر نام ہم کو غور و فکر کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) دیتا ہے۔ ان ناموں کے ذریعے ہم کو ایک متعین رہ نمائی مل جاتی ہے، جس کو لے کر ہم خدا کی ہستی کا تصور کر سکیں اور اُس کی مختلف صفات (attributes) کا تصور کرتے ہوئے خدا کی ہستی سے متعین نوعیت کا ذہنی رشتہ قائم کر سکیں۔ خدا سے اسی تعلق کا نام معرفت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کے لیے تمام اچھے نام ہیں، اُس کے بعد فوراً یہ ارشاد ہوا ہے — پس تم اُنھیں اچھے ناموں سے خدا کو پکارو، اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو، جو خدا کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں (180: 7)، یعنی اُنھیں ناموں کے ذریعے خدائے کامل الصفات کا تصور قائم کرو، نہ کہ اُن ناموں کے ذریعے جو دوسروں نے خودساختہ طور پر بنا لیے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page