Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

اسماءِ حسنیٰ

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کیا ہے۔ خدا ایک اعتبار سے ہمارے عجز (helplessness) کی تلافی ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے لحاظ سے عاجزِ مطلق ہے، اور خدا خالق و مالک ہونے کی بنا پر قادرِ مطلق۔ اس لیے یہ فطری ہے کہ انسان ہر موقعے پر خدا کو پکارے۔ خدا کے اسماءِ حسنیٰ اس کام میں انسان کے لیے مددگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خدا کے یہ تمام نام دراصل انسان کی نسبت سے ہیں۔ انسان اپنی نفسیات کے اعتبار سے جن خدائی حوالوں کا محتاج ہے، وہ تمام خدائی حوالے ان ناموں کے اندر موجود ہیں۔ آدمی کے اندر جب بھی اپنے عجز، اپنی عبدیت، اور اپنی حیثیتِ انسانی کے اعتبار سے کوئی جذبہ جاگتا ہے تو یہ خدائی نام اُس کو فوراً ایک رہ نما لفظ دے دیتے ہیں۔ ان رہ نما الفاظ کے ذریعے سے وہ اُسی طرح خدائے رب العالمین سے مربوط ہو جاتا ہے، جس طرح ٹیلی فون پر ایک نمبر ڈائل کر کے وہ اپنی مطلوب شخصیت سے فی الفور ربط قائم کر لیتا ہے۔ چند مثالیں یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان پیدائشی طور پر ایک متلاشی حیوان (truth-seeking animal) ہے۔ اس چھپی ہوئی فطرت کے زیر اثر آدمی کے اندر یہ جذبہ جاگتا ہے کہ کوئی برتر ہستی ہو جو اُس کو ہدایت کی روشنی عطا فرمائے۔ اُس وقت وہ پکار اٹھتا ہے کہ اے خدائے ہادی، تو مجھ کو اپنی رحمتِ خاص سے ہدایت عطا فرما۔ موجود دنیا میں انسان بار بار ایسی صورتِ حال سے دوچار ہوتا ہے، جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے۔ اُس وقت اُس کی فطرت میں چھپا ہوا جذبہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page