اسماءِ حسنیٰ
Urdu book, p. 1
By Maulana Wahiduddin Khan
اسماء حسنیٰ اور اسم اعظم قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: ولله الأسماء الحسنى (180 :7) یعنی اللہ ہی کے لیے ہیں اچھے نام (best names) ۔ یہ بات قرآن میں چار مقامات پر کہی گئی ہے (24 :59 ;8 :20 ;110 :17 ;180 :7) یہاں نام سے مراد نام نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد صفات (attributes) ہیں، یعنی تمام اچھی صفتیں خدا ہی کے لیے ہیں۔ اسماء حسنیٰ کی تعداد کیا ہے، ایک حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اسماء حسنیٰ کی تعداد ننانوے ہے۔ بعض علما نے اسماء حسنیٰ کی تعداد میں اضافہ کیا ہے، چناں چہ وہ کہتے ہیں کہ اسماء حسنیٰ کی تعداد ایک ہزار تک ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 2، صفحہ 269)۔ مگر اس معاملے میں تعداد کی حیثیت اضافی ہے۔ یہ تعداد دراصل، انسانی فرہنگ یا مجموعۂ الفاظ (vocabulary) کے اعتبار سے ہے۔ انسانی زبان کے الفاظ محدود ہوتے ہیں، لیکن خدا ایک لامحدود ہستی ہے، اس لیے خدا کی صفات بھی اپنی حقیقت کے اعتبار سے لامحدود ہیں۔ اسماء حسنیٰ کی ننانوے تعداد گویا کہ خدا کی نمائندہ صفات ہیں۔ اس اعتبار سے خدا کی بقیہ صفات بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر انھیں بنیادی صفات میں شامل ہیں۔ خدا کے ننانوے نام ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں : عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إنّ الله

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader