اسماءِ حسنیٰ
Urdu book, p. 2
By Maulana Wahiduddin Khan
تسعۃ وتسعین اسماً، مأۃ إلاّ واحداً۔ مَن أحصاها دخل الجنة (صحیح البخاری، باب للّہ مأۃ اسم غیر واحدۃ، صحیح مسلم، كتاب الذکر والدّعاء ) یعنی حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اللہ کے ننانوے نام ہیں ، سو میں ایک کم۔ جس شخص نے اُن کا احصا کیا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ اس حدیث رسول میں ’احصاء‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ احصا کا مطلب مجرد شمار کرنا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد اسماء حسنیٰ کا عارفانہ ادراک ہے۔ عربی کے مشہور لغت ’المعجم الوسیط‘ میں اس کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: أحصى الشیئ: أي عرف قدرہ۔ ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں ’احصاء‘ سے مراد إحصاء شعوری ہے، نہ کہ احصاء لسانی، یعنی اسماء حسنیٰ کی معرفت۔ اللہ کے یہ نام دراصل اللہ کی صفات کے مختلف پہلو ہیں۔ آدمی خدا پر اور اس کی تخلیقات پر غور کرتا ہے تو خدا کی خدائی کے مختلف پہلو اس کے سامنے آتے ہیں۔ انھیں پہلوؤں کا شعوری ادراک ہونا، اُن کا احصا کرنا ہے۔ اور جو لوگ اِس اعتبار سے خدا کی معرفت حاصل کریں، وہ بلا شبہ جنت میں جائیں گے، کیوں کہ جنت دراصل معرفتِ خداوندی کی قیمت ہے۔ حدیث میں ننانوے کا لفظ محض اعتباری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بے شمار نام ہیں۔ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بعض علما سے نقل کیا ہے کہ: إن للہ خمسة آلاف اسم۔ یعنی اللہ کے پانچ ہزار نام ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 19)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader