Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

اسماءِ حسنیٰ

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ دعا کے متعلق فرمایا کہ یہ دعا اسم اعظم کی دعا تھی۔ چوں کہ یہ دعا صحابی نے عربی زبان میں کی تھی، اس لیے لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اسم اعظم والی دعا وہی ہے جو عربی زبان میں کی گئی ہو، غیر عربی زبان کی دعا اسم اعظم کی دعا نہیں۔ مگر یہ سوچ درست نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، صحابی نے جو دعا کی، وہ ان کی اپنی مادری زبان میں تھی، نہ کہ سادہ طور پر عربی زبان میں۔ دعا کو عربی زبان کے ساتھ مخصوص کرنا، ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ دعا دل کے جذبات کا نام ہے، نہ کہ کسی زبان کے الفاظ کا نام۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر پیغمبر اپنی قوم کی زبان میں بھیجا گیا ( 14 : 1 )، یہی معاملہ دعا کا بھی ہے۔ جس طرح دعوتِ مخاطب قوم کی زبان میں ہوتی ہے، اسی طرح دعا، دعا کرنے والے کی اپنی مادری زبان میں ہوتی ہے۔ ایسا ماننا بہت ضروری ہے۔ اس لیے کہ اگر دعا کو عربی زبان کے ساتھ مخصوص کر دیا جائے، یا عربی زبان کی دعا کو افضل دعا بتایا جائے تو یہ دعا کی اصل روح کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ دعا کسی قسم کی تکرارِ الفاظ کا نام نہیں، دعا تڑپتے ہوئے دل کی پکار کا نام ہے، اور ایسی دعا ہمیشہ آدمی کی اپنی مادری زبان ہی میں ظہور میں آتی ہے۔ دعا کیا ہے دعا کسی ٹکنکل واقعے کا نام نہیں، دعا ایک داخلی طوفان کا خارجی اظہار ہے۔ جب ایک انسان خدا کو اُس کی عظمت و کبریائی کے ساتھ دریافت کرتا ہے، جب ایسا ہوتا ہے کہ خدا کے بارے میں سوچتے ہوئے اٗس کو خدا کی موجودگی کا اتنا شدید احساس ہوتا ہے کہ گویا وہ خدا کے پڑوس میں پہنچ گیا ہے۔ جب اٗس پر وہ طوفانی تجربہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page