Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

اسماءِ حسنیٰ

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

گزرتا ہے، جس کو حدیث میں: ذکر اللہ خالیاً، فضاضت عیناہ (البخاری، کتاب الرقاق) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی آدمی نے اپنی تنہائی میں خدا کو یاد کیا اور شدتِ تاثر سے اُس کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے۔ اُس نے دنیائے امتحان کے بارے میں سوچا، اُس نے موت اور روزِ حساب کا گہرا ادراک کیا، وہ اُن ربانی کیفیات سے گزرا، جب کہ انسان کو جہنم کے شعلے بھڑکتے ہوئے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف اُس کو جنت کے ابدی مناظر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جب اُس پر یادِ خداوندی کا وہ گہرا تجربہ گزرتا ہے، جب کہ سب کچھ اس کی نظروں سے محو ہو جاتا ہے، خدا کے سوا ہر چیز اُس کی نظر میں بے حقیقت بن جاتی ہے۔ ایسے طوفان خیز لمحات میں یہ ہوتا ہے کہ اُس کے دل ودماغ میں ایک بھونچال آجاتا ہے۔ اُس کی آنکھوں سے خوفِ خدا کا سمندر امڈ پڑتا ہے۔ جب سوچنے کی صلاحیت بظاہر ختم ہو جاتی ہے اور صرف محسوس کرنے کی صلاحیت باقی رہتی ۔ اُس وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان بے تابانہ طور پر اپنے رب کو پکارنے لگتا ہے۔ اُس کے اندر چھپی ہوئی ربّانی فطرت الفاظ کی صورت میں بہہ پڑتی ہے۔ ایسے طوفانی لمحات میں آدمی کی زبان سے جو کچھ نکلتا ہے، اُسی کا نام دعا ہے۔ یہی وہ دعا ہوتی ہے جو اسمِ اعظم کی زبان میں نکلتی ہے اور ایسی دعا ہمیشہ اپنی پہلی زبان میں ہوتی ہے، نہ کہ اپنی دوسری زبان میں۔ ایک واقعہ میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں دس سال سے ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page