اسماءِ حسنیٰ
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
نے ابھی تک اس کو مانگا ہی نہیں۔ اگر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ چھلنی لے کر بازار جائیں تو پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی آپ خالی ہاتھ واپس آئیں گے۔ اسی طرح اگر آپ زبان سے دعا کے کلمات دہرارہے ہوں ، مگر آپ کی اصل ہستی کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ نہ آپ نے مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا، جو مانگے وہ کبھی پائے بغیر نہیں رہتا۔ یہ مالکِ کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکھے۔ وہ کہے کہ خدایا، میں نے تجھ سے ایک چیز مانگی تھی مگر تو نے مجھے وہ چیز نہ دی ۔ بخدا ، یہ ناممکن ہے ، یہ ناممکن ہے ، یہ ناممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح وشام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آ کر آواز دیتا ہے " کون ہے جو مجھ سے مانگے ، تاکہ میں اسے دوں، مگر جنھیں لینا ہے، وہ اس سے غافل بنے ہوئے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور۔ دعا کی طاقت حدیث میں آیا ہے کہ : لا يرد القضاء إلا الدعاء (الترمذی، کتاب القدر) یعنی قضا اور قدر کے فیصلے کو صرف دعا بدل سکتی ہے۔ خدا نے اس دنیا کا نظام اسباب وعلل کی بنیاد پر قائم کیا ہے، اور پھر انسان کو مکمل آزادی دے دی ہے۔ اب انسان اپنی آزادی کے مطابق عمل کرتا ہے اور خدا کے قائم کردہ نظام اسباب وعلل سے مطابقت یا مخالفت کی بنیاد پر اس کا اچھا یا بُرا نتیجہ اس کے سامنے آتا ہے۔ میں سمجھتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader