Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

اسماءِ حسنیٰ

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوں کہ یہ نظام بالکل حتمی ہے۔ کوئی آدمی خواہ مخلص ہو یا غیر مخلص، اُس کو بہر حال اس نظام کو بھگتنا ہے۔ کسی بھی شخص کے لیے اس نظام کو منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔ اس معاملے میں صرف ایک استثناء ہے اور وہ دعا کا ہے۔ کوئی آدمی جب سچی دعا کرتا ہے اور اُس وقت اگر خدا اس کی دعا قبول کر لیتا ہے تو وہ اسباب کے نظام میں مداخلت کر کے اس کا راستہ ہموار کر دیتا ہے۔ یہی مطلب ہے اس بات کا کہ دعا، قضا اور قدر (destiny) کو بدل دیتی ہے۔ لیکن دعا الفاظ کی تکرار کا نام نہیں ہے، حتیٰ کہ قرآنی دعائیں یا ماثور دعائیں بھی اگر صرف رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار ہوں تو وہ بھی مؤثر نہیں ہو سکتیں ۔ نظامِ قضا کو بدلنے کے لیے وہ دعا درکار ہے جو دل کو پھاڑ کر کی جاتی ہے، جو دل کی پھٹن کی آواز ہوتی ہے، جس میں آدمی کا پورا وجود شامل ہو جاتا ہے، جو انسانی شخصیت میں ایک بھونچال کے بعد ظہور میں آتی ہے۔ اس قسم کی دعا کی قبولیت کی ایک اور شرط یہ ہے کہ دعا کرنے والے کا ذہنی تزکیہ اتنا زیادہ ہو چکا ہو کہ اس کی سوچ خدا کی سوچ بن جائے ۔ ایسا آدمی وہی دعا کرے گا جو خدا کے نزدیک قابلِ قبول ہوتی ہے۔ اس کی زبان سے ایسی دعا نہیں نکلے گی جو خدا کی سنت کے مطابق ، قابلِ قبول ہی نہیں۔ پیغمبر کی دعا کی مثال خدا کے تمام پیغمبروں نے اسمِ اعظم کے ساتھ دعائیں کی ہیں۔ مثلاً پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ بدر کے موقع پر میدانِ جنگ کی طرف نگاہ ڈالی تو آپ کو نظر آیا کہ طاقت ور مشرک فوج کے مقابلے میں، مؤحدین کی ایک کم زور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page