Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

دعا اور سپرد دعا

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

حاضرین کے سامنے مائک پر بولتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن میں پیغمبروں کے قصے بتائے گئے ہیں، لیکن یہ تاریخی کہانی کے طور پر نہیں، بلکہ وہ ہمارے حال کے لیے ایک زندہ سبق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ مصر کے جابر بادشاہ کے دربار میں جائیں اور وہاں اُس کے سامنے توحید کی دعوت پیش کریں۔ حضرت موسیٰ نے کہا کہ: یضیق صدری و لاینطلق لسانی (13: 26)۔ خدایا، میرا سینہ تنگ ہورہا ہے اور میری زبان چلتی نہیں۔ پھر انھوں نے قادرِ مطلق خدا کی توفیق سے یہ دعا کی کہ: رب اشرح لی صدری، و یسرلی أمری، واحلل عقدةً من لسانی، یفقھوا قولی (28- 25: 20) یعنی اے میرے رب، میرے لیے میرا سینہ کھول دے اور میرے لیے میرے معاملے کو آسان کردے۔ اور تو میری زبان کی گرہ کو کھول دے تا کہ لوگ میری بات کو سمجھیں۔ میں نے کہا کہ حضرت موسیٰ نے جب اس طرح خدائے سمیع و بصیر کو پکارا تو ان کی دعا سیدھے عرش الہی تک پہنچ گئی اور وہاں سے آواز آئی: لقد أوتیت سؤلک یا موسی (36: 20) یعنی اے موسیٰ، تم نے جو سوال کیا، وہ تم کو دے دیا گیا۔ اس کے بعد میں نے دیوانگی کے عالم میں کہا کہ یہ واقعہ کوئی ماضی کی سرگذشت نہیں، یہ واقعہ آج بھی اسی طرح زندہ ہے، جس طرح خدائے حی و قیوم زندہ موجود ہے۔ آج بھی اگر کوئی خدا کا بندہ خدا کو پکارے اور کہے کہ خدایا، میرا سینہ تنگ ہورہا ہے اور میری زبان چلتی نہیں تو آج بھی اُس کی یہ آواز خدائے سمیع و بصیر تک پہنچے گی اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page