Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

دعا اور سپرد دعا

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

تیری شانِ رحمت کے ایک نئے اظہار کے ہم معنیٰ ہوگا۔ سارے زمین و آسمان اور تمام فرشتے یہ دیکھ کر حیران ہو جائیں گے کہ خدا کی رحمتوں کا سمندر اتنا وسیع تھا کہ ہمارے جیسے آخری حد تک غیر مستحق افراد بھی تیری رحمتِ بے پایاں کے فیض سے محروم نہ رہے، تیری رحمتِ بے پایاں کتنی وسیع تھی کہ وہ تاریخ کے ان نااہل ترین افراد تک کا احاطہ کررہی تھی۔ لقد أوتيت سؤلك يا موسى غالباً 1962 کی بات ہے۔ مجھے اعظم گڑھ کے ایک قصبہ (آن جان شہید) کے ایک اجتماع میں شرکت کا موقع ملا۔ اس اجتماع میں مسلم حضرات شریک تھے۔ مجھے پیشگی طور پر معلوم نہ تھا کہ مجھ کو اس اجتماع میں خطاب کرنا ہے۔ کچھ لوگوں نے اچانک مجھے اسٹیج پر لے جاکر کھڑا کر دیا۔ میرے لیے یہ ایک مجبورانہ خطاب کا معاملہ تھا۔ یہ غالباً پہلا موقع تھا جب کہ مجھے خطاب کے معاملے میں کامل عجز کا تجربہ ہوا۔ اس سے پہلے میں نے بار بار اجتماعات میں خطاب کیا تھا، مگر یہ تمام خطابات تحریری مقالے کی صورت میں تھے۔ مجھے پیشگی طور پر پروگرام کا علم ہوتا تھا اور میں مقالہ لکھ کر اس کو وہاں پڑھ دیتا تھا۔ مگر اس بار ایسی صورت پیش آئی کہ مجھے لازمی طور پر بولنا بھی تھا اور کسی پیشگی تیاری کے بغیر زبانی طور پر خطاب کرنا تھا۔ اُس وقت اچانک میرے اندر وہ ذہنی بھونچال کی کیفیت پیدا ہوئی جس کو نفسیاتی اصطلاح میں برین اسٹارمنگ (brain storming) کہا جاتا ہے۔ اُس وقت میرے لیے کسی آزادانہ انتخاب کا موقع نہ تھا۔ میں نے خدا کو یاد کیا اور دیوانگی کے عالم میں اچانک بولنا شروع کر دیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page