دعا اور سپرد دعا
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
قال: فیرجعون مغفوراً لهم۔ (رواه البیهقي في شعب الإيمان، مشكاة المصابيح، رقم الحديث: 2096)۔ ترجمہ: جب اُن کی عید کا دن آتا ہے، یعنی عید فطر کا دن، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اُن پر فخر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے میرے فرشتو، اُس عامل کا اجر کیا ہے جس نے اپنے عمل کو پورا کر دیا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب، اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو اُس کے عمل کا پورا بدلہ دے دیا جائے۔ خدا کہتا ہے کہ اے میرے فرشتو، میرے بندوں اور میری بندیوں نے میرے اُس فرض کو ادا کر دیا جو اُن پر تھا، پھر وہ نکلے ہیں دعا کے ساتھ مجھ کو پکارتے ہوئے۔ میری عزت اور میرے جلال کی قسم، میرے کرم، میرے علوِ شان اور میرے بلند مقام کی قسم، میں ضرور اُن کی پکار کو سنوں گا۔ پھر خدا کہتا ہے کہ: تم لوگ واپس جاؤ، میں نے تم کو بخش دیا اور میں نے تمھارے سیأت (evil deeds) کو حسنات (good deeds) میں بدل دیا۔ پس وہ لوگ اس طرح لوٹتے ہیں کہ اُن کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے۔ آج کے دن کی نسبت سے یہ حدیث مجھے یاد آئی۔ یہ سوچ کر میرا دل بے قرار ہو گیا کہ آج کے دن خدا لوگوں کو بڑے بڑے انعام دے رہا ہے، لیکن یہ انعام عمل کرنے والوں کے لیے ہے اور میرے پاس کوئی عمل نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader