Urdu book · اسماءِ حسنیٰ

دعا اور سپرد دعا

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

وقف کر دیا ہے۔ اس طرح یہ کام اب ہر دن عالمی سطح پر پھیل رہا ہے۔ اسی طرح کچھ تعلیم یافتہ لوگوں نے اس لٹریچر کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ انھوں نے محض ذاتی جذبے کے تحت، میری اردو اور انگریزی تقریروں کو ٹی وی کے پروگرام میں شامل کر دیا۔ فجز اهم الله خير الجزاء۔ ’’عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر‘‘ کا وجود میں آنا بلا شبہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ میرے جیسے عاجز اور بے حقیقت آدمی کے ذریعے یہ واقعہ پیش آیا۔ اس واقعے کی اس کے سوا کوئی اور توجیہ ممکن نہیں کہ اسمِ اعظم کے ساتھ مانگی جانے والی دعا جو میرے بے قرار دل سے نکلی، اُس کو خدا نے قبول فرما لیا اور اِس طرح اسلام کے جدید تعارف کا وہ واقعہ پیش آیا جو میرے جیسے انسان کے لیے ناقابلِ تصور تھا۔ ایک واقعہ 24 اکتوبر 2006 کا واقعہ ہے۔ یہ عید کا دن تھا۔ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نئی دہلی کی ایک مسجد میں عید کی نماز ادا کرنے گیا۔ وہاں میں مسجد کے ایک گوشے میں تنہا بیٹھا ہوا تھا ۔ میں مسلسل رو رہا تھا اور بے قراری کے عالم میں دل کی زبان سے دعا کر رہا تھا۔ میری اس حالت کو مولا نا محمد ذکوان ندوی نے دیکھا۔ بعد کو انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا کیا معاملہ تھا۔ اُن کے پوچھنے پر میں نے بتایا کہ مجھے وہ حدیث یاد آئی، جس میں عید الفطر کے دن نماز کے لیے نکلنے والے اہلِ ایمان کا ذکر ہے۔ وہ حدیث اس طرح ہے: "... فإذا كان يوم عيدهم، یعنی يوم فطرهم، باهي بهم ملائكته، فقال: ملائكتي، ما جزائى أجير وفى عمله۔ قالوا: ربنا، جزائه أن يُوفّى

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page