Urdu book · اوراقِ حکمت

15 مئی 1985

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

قانون کا نفاذ مفید ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ قانون ہمیشہ روایات کے اور پر نافذ ہوتا ہے، اور موجودہ زمانے میں شراب بندی کے قانون کے لیے روایات کا زور موجود نہیں ہے۔ رشوت۔ بالاتفاق حرام ہے۔ قتادہ (وفات 118ھ) نے کہا کہ صحابی رسول ابی بن کعب (وفات 30ھ) نے فرمایا کہ رشوت عقل مند کو بیوقوف بناتی ہے، اور حکیم کی آنکھ کو اندھا کردیتی ہے (قَالَ قَتَادَةُ: قَالَ كَعْبُ: الرَّشْوَةُ تُسَفِّهُ الْحَلِيمَ، وَتُعْمِي عَيْنَ الْحَكِيمِ) المغنی لابن قدامہ، جلد 10، صفحہ 69۔ رشوت ایک ایسا مال ہے، جو آدمی حق کے بغیر لیتا ہے، اور جب آدمی واقعی حق کے بغیر کوئی چیز لے تو عین اسی وقت وہ اپنے آپ کو نیچے گرا لیتا ہے۔ وہ اعلیٰ اخلاق کی سطح پر رہ کر کام نہیں کر سکتا۔ اونچا کام کرنے والے کے اندر اونچا ذہن پرورش پاتا ہے، اور پست کام کرنے والے کے اندر پست ذہن پیدا ہوتا ہے۔ رشوت بظاہر ایک مالی معاملہ ہے، مگر آدمی جب اس میں پڑ جاتا ہے تو اس کی عقل و بصیرت بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتی ہے۔ اخلاقی گراوٹ کا فعل کرتے ہی وہ اپنے آپ کو ذہنی اور فکری حیثیت سے بھی گرا لیتا ہے۔ آدمی اپنے کپڑے صاف رکھنے کے لیے اس کو گندگی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی عقل و بصیرت کو صاف ستھرا رکھنا چاہتا ہے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے آپ کو برے اخلاق سے بچائے۔ برے اخلاق میں ملوث ہونے کے بعد وہ اپنی عقل کو صحیح حالت میں باقی نہیں رکھ سکتا۔ شاعرانہ اسلوب کی ایک مثال ذیل کا یہ پیرا گراف ہے: دل کی اس آنچ کو کچھ کرنے اور روح کی پیاس بجھانے کے لیے ایک مسلمان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page