Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

کو اس کی ضرورت تھی کہ اس کے دل کا ساغر اور نگاہوں کا پیمانہ چھلک چھلک جائے۔ اس جام کی کیا قیمت جو بھرے لیکن چھلک نہ پائے۔ یہی نہیں اس کی بھی ضرورت تھی کہ یہ جام چھلک کر بہنے لگے اور دوری و مجبوری کی آگ میں جلے ہوئے دل کو سیراب کر دے۔ وہ جام کیا جام ہے جو بھر کر چھلک تو جائے لیکن چھلک کر بہہ نہ پائے (ارکانِ اربعہ، صفحہ 96-295) یہ اسلوب شاعرانہ اسلوبِ دورِ تنزل کی پیداوار ہے۔ یہ اسلوب نہ دورِ نبوت میں تھا اور نہ وہ موجودہ زمانہ میں پایا جاتا ہے۔ یہ ایرانیوں کے اثر سے بعد کے زمانہ میں پیدا ہوا۔ مگر مسلمان اہل قلم ابھی تک اسی میں گرفتار پڑے ہوئے ہیں۔ دورِ نبوت میں سادہ فطری اسلوب رائج تھا۔ اور بلاشبہ اپنی تاثیر کے اعتبار سے وہ بہترین اسلوب تھا۔ موجودہ زمانہ میں اسی فطری اسلوب نے علمی انداز اختیار کیا ہے اور اس کو سائنٹفک اسلوب کہا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلمان مصنفین موجودہ زمانہ میں اس کو اختیار نہ کر سکے۔ گل و بلبل، فراق و وصال اور جام و مینا کی اصطلاحوں میں کلام کرنا علمی ذوق کے خلاف بھی ہے، اور جدید اسلوب کلام سے دوری بھی۔ 20 مئی 1985 ایک سیکولر آدمی نے اسلام کی سادگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں مسلم محلہ میں رہتا ہوں۔ وہاں ایک مسجد ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ جو مسلمان بھگوان کی عبادت کے لیے آتا ہے وہ وضو کرتا ہے اور پھر نماز پڑھتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ اس کو خدا تک پہنچنے کے لیے کسی درمیانی واسطے کی ضرورت نہیں۔ اس کے برعکس، دوسرے مذاہب میں کسی پریسٹ یا پادری کا ذریعہ اختیار کیے بغیر کوئی شخص خدا کی عبادت نہیں کر سکتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page