اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
صرف طاقت کے زور کو جانتا ہے، وہ دلیل کے زور کو نہیں جانتا۔ موجودہ دنیا میں آدمی دلیل کا انکار کر کے خوش ہو جاتا ہے، اور طاقت کا اعتراف کر کے اپنے کو عقل مند سمجھتا ہے۔ مگر یہ اتنا بڑا جرم ہے جو سب سے زیادہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والا ہے۔ جو لوگ موجودہ دنیا میں دلیل کے آگے نہ جھکیں، وہ اپنے آپ کو اس خطرے میں مبتلا کرتے ہیں کہ آخرت کی دنیا میں انھیں فرشتوں کی طاقت کے آگے جھکایا جائے۔ مگر اُس دن کا جھکنا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ دلیل کے آگے جھکنا آدمی کے لیے جنت (Paradise) کا دروازہ کھولتا ہے۔ جب کہ طاقت کے آگے جھکنا صرف اس لیے ہوتا ہے کہ آدمی کو مجبور کر کے جہنم کے گڑھے میں دھکیل دیا جائے۔ دلیل کے آگے جھکنا خدا کے آگے جھکنا ہے۔ جو لوگ دلیل کے آگے نہ جھکیں، وہ گویا خدا کے آگے سرکشی کر رہے ہیں۔ جو لوگ خدا کے آگے سرکشی کریں، اور پھر اسی حال میں مر جائیں، ان کو خدا کبھی معاف نہیں کرے گا۔ 3 جون 1985 موجودہ دنیا کی تمام خرابیوں کی جڑ آزاد خیالی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مفکرین آزادی کو خیر اعلیٰ (summum bonum) کہتے ہیں۔ مگر یہی سب سے بڑا خیر سب سے بڑا شر بن گیا ہے۔ آزادی کے اس تصور نے انسان کو بالکل بے قید بنا دیا ہے۔ وہ کسی قسم کی اخلاقی پابندی کو اپنے لیے ضروری نہیں سمجھتا۔ اور جو لوگ اپنے آپ کو اضافی پابندیوں سے آزاد سمجھ لیں وہ جنگل کے جانوروں سے بھی زیادہ برے بن جاتے ہیں۔ آزادی کے نام پر پیدا شدہ اس بگاڑ کا سب سے زیادہ برا حصہ مسلمانوں کے حصے میں آیا ہے۔ مسلمان اپنی قدیم تاریخ کے نتیجہ میں جھوٹے فخر کی نفسیات میں مبتلا تھے۔ جدید دور کی بے قید آزادی نے ان کے فکری زوال میں دُگنا اضافہ کر دیا ــــ آزاد خیالی اور پُر فخر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader