اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
جوش کے تحت ظاہر ہونے والے واقعہ کو ہمت کا واقعہ سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہمت کے تحت اقدام سوچا سمجھا اقدام ہوتا ہے اور بے جا جوش کے تحت اقدام محض وقتی جذبہ سے بھڑک کر کیا جانے والا اقدام۔ اول الذکر اپنی منزل کی طرف کامیاب سفر ہے، اور ثانی الذکر صرف بربادی کی خندق میں احمقانہ چھلانگ۔ 31 مئی 1985 سمندر میں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو دوڑاتی ہیں۔ جنگل میں ہر وقت چھوٹے جانوروں کو بڑے جانوروں کا ڈر لگا رہتا ہے۔ یہی خدا کا نظام ہے۔ اگر مچھلیاں اور جانور خدا سے اس کی شکایت کریں تو خدا کا جواب یہ ہوگا: میں نے جو سمندر اور جو جنگل بنائے ہیں وہ تو ایسے ہی ہیں۔ اگر تمھیں وہ منظور نہ ہوں تو تم اپنی مرضی کے مطابق دوسرے سمندر اور دوسرے جنگل بنالو۔ یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔ انسانوں کی دنیا میں بھی ہمیشہ یہ مقابلہ (competition) جاری رہا ہے، اور جاری رہے گا۔ اس مقابلہ کی وجہ سے کوئی گرتا ہے، اور کوئی اُٹھتا ہے۔ کسی کو جیت ملتی ہے، اور کسی کو ہار۔ انسان کے لیے لازم ہے کہ وہ اس سے مطابقت کرکے رہے۔ جو لوگ اس کو پسند نہ کریں، ان کے لیے دنیا کا نظام بدلا نہیں جاسکتا۔ ان کے لیے صرف ایک ہی راہ ہے، اور وہ یہ کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق نئی دنیا تخلیق کریں۔ خدا کی دنیا میں تو ایسا ہونا ممکن نہیں۔ 1 جون 1985 انسان کی اعلیٰ ترین تعریف میرے نزدیک یہ ہے کہ وہ دلیل کے آگے جھک جائے، وہ طاقت کے بغیر محض دلیل کی بنیاد پر حقیقت کا اعتراف کرلے۔ مگر میری زندگی کا سب سے زیادہ تلخ تجربہ یہ ہے کہ آدمی دلیل کے آگے نہیں جھکتا۔ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader