5 جون 1985
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنے لیے صحیح ترین میدان کا تعین اور اس میدان میں مکمل جدوجہد، ان دو شرطوں کو پورا کیے بغیر ایک شخص کوئی قابلِ لحاظ کام نہیں کر سکتا۔ جو شخص اپنی زندگی کو کارآمد بنانا چاہتا ہو اس پر لازم ہے کہ وہ ان دو شرطوں کو پورا کرے۔ 7 جون 1985 خشکی کے اکثر جانور (اونٹ جیسے بعض جانوروں کو چھوڑ کر) پانی میں تیرنا جانتے ہیں۔ وہ آسانی ندی کے اس طرف سے اُس طرف تیر کر جا سکتے ہیں۔ ان جانوروں کو یہ تیرنا کس نے سکھایا۔ جواب ہے کہ قدرت نے، یعنی وہ اپنی مقرر کردہ جبلت (instinct) کے تحت تیرتے ہیں۔ جانور جس طرح تیرنے کا ملکہ پیدائشی طور پر لے کر آتا ہے اسی طرح اپنی ضرورت کی دوسری چیزوں کو بھی وہ پیدا ہوتے ہی جان لیتا ہے۔ مثلاً گھر کیسے بنایا جائے ۔ دشمنی سے کیسے بچا جائے ۔ کون سی خوراک کھائی جائے اور کون سی خوراک نہ کھائی جائے۔ توالد و تناسل کے لیے کیا کیا جائے، وغیرہ ۔ یہ سب باتیں ہر جانور پیدائشی طور پر جانتا ہے۔ انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان کو ہر بات سیکھنی پڑتی ہے۔ گھر کے اندر اور گھر کے باہر کی دنیا اس کے لیے تعلیم گاہ ہوتی ہے، جہاں وہ اپنی ضرورت کی تمام باتوں کو سیکھتا ہے۔ جانور اور انسان کے درمیان یہ فرق بتاتا ہے کہ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جانور اپنے اعمال کے لیے جواب دہ نہیں۔ مگر انسان اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہے۔ انسان کا جواب دہ (accountable) ہونا خود انسان کی اپنی بناوٹ سے ثابت ہو رہا ہے۔ برطانی قوم کا ایک بڑا عجیب واقعہ ہے، جس میں دوسروں کے لیے زبردست سبق پایا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader