5 جون 1985
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتا ہے۔ سیکنڈ ورلڈ وار (45-1939) میں برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹر وسٹن چرچل (1865-1874) تھے ۔ انھیں کی قیادت میں برطانیہ نے اس جنگ میں فتح حاصل کی تھی۔ مگر جنگ کے فوراُ بعد جب برطانیہ میں الکشن ہوا تو اہل برطانیہ نے مسٹر چرچل کو الکشن میں شکست دے کر مسٹر کلیمنٹ اٹلی (1967-1883) کو ملک کا وزیر اعظم بنا دیا۔ فاتح کو عین اس کی فتح کے بعد معزول کر دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت برطانیہ عظمی کے نوآبادیاتی علاقوں میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ جنگ کے بعد برطانیہ اس قابل نہ تھا کہ وہ ہندوستان اور دوسرے نو آبادیاتی ممالک میں بزوراپنا اقتدار قائم رکھ سکے۔ برطانیہ کے باشعور طبقہ نے یہ فیصلہ کیا کہ نوآبادیاتی ممالک کو آزاد کر دیا جائے۔ اس عمل کے لیے متشدد چرچل موزوں نہ تھے۔ بلکہ صلح پسند اٹلی موزوں تھے۔ چنانچہ اہل برطانیہ نے فاتح ہونے کے باوجود چرچل کو اقتدار سے ہٹا دیا اور مسٹر اٹلی کو ان کی جگہ ملک کا وزیر اعظم بنا دیا۔ مہاتما گاندھی (1948-1869) اور ہندوستان کے دوسرے لیڈروں کے زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا، اور اسی کے نتیجہ میں ملک بآسولت آزاد ہو گیا۔ مگر مہاتما گاندھی اور ان کے ساتھیوں نے خود اپنے لیے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ ہندوستان میں جنگ آزادی کی قیادت شمالی ہند نے کی تھی۔ اس کے نتیجہ میں شمالی ہند کے لوگوں میں غیر معتدل قسم کا سیاسی مزاج بلکہ تخریبی مزاج پیدا ہو گیا۔ اس کے مقابلہ میں جنوبی ہند کا مزاج بالکل مختلف تھا۔ شمالی ہند میں اگر انتہا پسندانہ سیاست کا مزاج تھا تو جنوبی ہند میں مخصوص اسباب کے تحت حقیقت پسندانہ تعمیر کا مزاج۔ ان حالات میں مہاتما گاندھی کے لیے صحیح ترین بات یہ تھی کہ وہ آزاد ہندوستان کا وزیر اعظم جنوبی ہند کے کسی شخص کو بنائیں۔ خوش قسمتی سے اس وقت کے جنوبی ہند میں سی راج گوپال اچاریہ (1978-1972 ,Chakravarti Rajagopalachari) جیسا عظیم لیڈر موجود تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader