اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
صحابہ کرام نے جو حدیثیں بیان کی ہیں وہ سب کی سب براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی نہیں ہیں۔ ان میں ایسی حدیثیں بھی ہیں جن کو ایک صحابی نے دوسرے صحابی سے سنا اور صحابی کا نام لیے بغیر حدیث کو بیان کر دیا۔ براء بن عازب (وفات 72 ھ) کہتے ہیں: مَا كُلُّ مَا نُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْنَاهُ مِنْهُ مِنْهُ مَا سَمِعْنَاهُ، وَمِنْهُ مَا حَدَّثَنَا عَنْهُ أَصْحَابُنَا، وَنَحْنُ لَا نَكْذِبُ (فوائد الفریابی، اثر نمبر 34)۔ یعنی جو کچھ ہم تمھارے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، وہ ہم نے آپ سے نہیں سنا۔ کچھ ہم نے آپ سے سنا ہے، اور کچھ اصحاب رسول نے (آپ سے سن کر) بیان کیا ہے، اور ہم جھوٹ نہیں بولتے ہیں۔ اس قسم کی روایت کو اصطلاح حدیث میں مرسل حدیث کہتے ہیں اور علما کا اتفاق ہے کہ صحابی کی مراسیل قابل اعتبار ہیں۔ امام موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامی المقدسی کہتے ہیں: مراسیل اصحاب النبي صلى الله عليه و سلم مقبولة عند الجمهور (روضة الناظر وجنة المناظر، صفحه 125)۔ یعنی اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمہور کے نزدیک مقبول ہیں۔ 15 جون 1985 مسلمانوں نے پچھلے دو سو برس کے اندر کوئی بھی ٹھوس تعمیری کام نہیں کیا۔ موجودہ زمانہ کا سب سے بڑا مسئلہ عقلی نقطۂ نظر کا غلبہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں عقلی نقطۂ نظر نے ایک فکری انقلاب پیدا کیا ہے۔ اس انقلاب نے دینی عقائد کو دور جاہلیت کی چیز قرار دے کر ان کو تاریخ کے خانہ میں ڈال دیا۔ یہاں ضرورت تھی کہ مسلمان اٹھیں اور دینی عقائد اور تعلیمات کو دوبارہ عقلی بنیاد فراہم کریں۔ مگر اس پوری مدت میں منفی ہنگاموں کے سوا مسلمان اور کچھ نہ کر سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader