Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

خود نمائی ہماری سیاست، ذاتی مفاد ہماری معیشت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں ہر شخص کا نظریہ حیات ایک ہی ہے، خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی۔ ایک آدمی اور دوسرے آدمی میں جو فرق ہے وہ الفاظ کا ہے، نہ کہ حقیقت کا۔ ہر آدمی اپنے حسب حال الفاظ بولتا ہے۔ ہر لیڈر اس نعرہ کو اختیار کرلیتا ہے جو اس کے لیے مفید مطلب (convenient) ہو۔ اگر کئی الفاظ کو ایک لفظ میں سمیٹنا چاہیں تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آج کی دنیا میں ہر شخص کا دین صرف ایک ہے، اور وہ ہے استحصال (exploitation)۔ بولے ہوئے الفاظ میں لوگوں کے دین ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ایک شخص اور دوسرے شخص کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ 12 جون 1985 حدیث میں اہل جنت کی خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دوسروں کے بارے میں وہی فیصلہ کیا جو فیصلہ ان کا خود اپنے بارے میں تھا (وَحَکُمُوا لِلنَّاسِ کَحُکْمِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ) مسند احمد، حدیث نمبر 24379۔ یعنی اہل جنت انسانوں کو اپنے اور غیر کے اعتبار سے نہیں دیکھتے ہیں، انسانوں کو میرٹ کے اعتبار سے دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، زوال یافتہ ذہن چیزوں کو اپنے اور غیر کے اعتبار سے دیکھا کرتا ہے۔ مثلاً تقسیم ہند (1947) کے وقت جو فساد ہوئے اس میں ہندو مسلم اور سکھ ہر ایک کا نقصان ہوا تھا۔ مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اس پر مسلمان شکایتیں کرتے ہیں۔ مگر یہی معاملہ ہندوؤں اور سکھوں کے ساتھ بھی پیش آیا، اس کو وہ بالکل نظر انداز کیے ہوئے ہیں۔ یہ دہرا طریقہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ پھر مذکورہ طرزِ عمل کے بعد وہ کیسے امید کرتے ہیں کہ آخرت میں وہ اللہ کے محبوب بندے قرار دیے جائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page