اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
معاملات سے متعلق ہے۔ مسلمان اس خط کو پسند نہیں کریں گے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ خط صدفی صد (100%) درست ہے، وہ مسلمانوں کی حالت کی صحیح ترین ترجمانی ہے۔ ہندو مکتوب نگا رنے لکھا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان اپنی زبو حالی کا الزام ہندوؤں کو دیتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کے ذمہ دار تمام تر خود مسلمان ہیں۔ اس نے مسلمانوں کی لیڈر شپ کو مسلمانوں کی بد حالی کا واحد ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ مکتوب نگار کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی بدحالی کا سبب یہ ہے کہ ان کے لیڈروں میں خود نمائی (self-glorification) کا جذبہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے تمام لیڈ رکھود نمائی (self glory) کے مرض میں مبتلا ر ہے ۔ وہ انھیں چیزوں میں دوڑتے ہیں جس میں نیوز ویلو ہو، جس میں ان کی ذات کو شہرت اور بڑائی حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کا کوئی لیڈر (سر سید کے واحد استثنا کے سوا اس پورے دور میں کوئی حقیقی تعمیری کام (constructive) نہ کر سکا۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کو اپنی بدحالی کا ذمہ دار اپنے آپ کو قرار دینا چاہیے، دوسروں کی شکایت کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ مجھے مذکورہ ہندو مکتوب نگار کی رائے سے صدفی صد (100%) اتفاق ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اصل دشمن خود ان کے اپنے لیڈر ہیں۔ ان لیڈروں نے اپنی شخصی لیڈری کی خاطر قوم کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ مسلمان جب تک اس اصل سبب کا اعتراف نہ کریں، وہ موجودہ زمانے میں اپنی جگہ حاصل نہیں کر سکتے۔ 1985 جون 18 قدیم عرب کے لوگ اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے حیرت انگیز تھے۔ ان کی مختلف صلاحیتوں میں سے ایک اعلیٰ صلاحیت یہ تھی کہ وہ کم الفاظ میں نہایت با معنی بات کہنا جانتے تھے۔ جنگ جمل کے زمانہ میں حضرت علی نے دو آدمیوں کو کوفہ بھیجا کہ وہ ان کو تعاون پر آمادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader